سرینگر: جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز بحال شدہ پرانے امیرا کدل فٹ برج کا افتتاح کیا۔
ری ڈیولپ کیے گئے پیدل پل کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے سِنہا نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد سری نگر کی روایتی شناخت کو جدید انفراسٹرکچر کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ثقافتی اور متحرک عوامی مقامات تخلیق کرنا ہے۔
سنہا نے کہا کہ یہ پل، جسے۲۰۲۳ میں دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا، اب تمام سہولیات کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے اور اسے سری نگر کے عوام کے نام وقف کیا گیا ہے۔ ایل جی کاکہنا تھا’’چاہے وہ پل ہوں، پیدل زونز، ریور فرنٹ کے کام ہوں یا پارکس، ہماری توجہ معیاری عوامی مقامات کی تخلیق پر رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ورثے کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا گیا ہے‘‘۔
سِنہا کے مطابق ایسے منصوبوں کی تکمیل سے سری نگر کے تجارتی مرکز اور قدیم شہر کے علاقے شہرِ خاص کے درمیان تاریخی ربط کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔
سری نگر اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت تعمیر شدہ 7.17 کروڑ روپیوں کی لاگت کے اس شاندار اور فن تعیر کے نادر نمونے کے پل سے راہگیروں کا تحفط اور ان کی رسائی بہتر ہو جائے گی۔
یہ پل سری نگر کے ان سات مشہورقدیم ترین پلوں میں سے ایک ہے جو امتداد زمانہ کے ساتھ نا قابل آمد ورفت بن گیا تھا بلکہ اس کے فقط نشان باقی ہی رہ گئے تھے ۔
اعلیٰ معیار کی خالص دیودار لکڑی سے تعمیر ہونے والا یہ پل اب نہ صرف لوگوں کے لئے آرام و آسائش کا ذریعہ بنے گا بلکہ یہ سیاحوں کے لئے باعث کشش ہوگا۔
اپنی نوعیت کے اس منفرد برج کی تعمیر کے لئے رفیع ثاقب آرکیٹکٹس اور البرج کنسلٹنسی نے کام کیا۔
رفیع ثاقب آرکیٹکٹس کے نجم الثاقب نے یو این آئی کو بتایا’’اس پل کو ڈیزائن کرنے میں تین ماہ لگ گئے ، اس کی چوڑائی۹میٹر ہے اور اس کو بنانے کے لئے اعلیٰ معیار کی دیودار لکڑی استعمال کی گئی ہے ‘‘۔
اس پل میں چونکہ چھت والی جگہ زیادہ ہے جہاں لوگ برف وباراں میں اپنا ساز و سامان رکھ سکتے ہیں یا وہاں برف باری یا بارش سے بچنے کے لئے بیٹھ سکتے ہیں۔اس پل پر بیٹھنے کے لئے جو مخصوص جگہ رکھی گئی ہے وہاں لوگ خاص طور پر سیاح بیٹھ کر دریائے جہلم کے پر کیف نظاروں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور اس میں اوپن ٹائپ ہٹس بنائی گئی ہیں جہاں لوگ بیٹھ کر تھکان بھی دور کر سکیں گے ۔
تاریخی اعتبار سے یہ پل افغان دور میں سال۱۷۷۴میں ایک افغان گورنر امیر خان نے تعمیر کر وایا تھا جس کے بعد سیلابوں کی وجہ سے یہ خستہ ہوگیا تھا۔
دریں اثنا لوگ خاص طور پر مقامی لوگ اس پل کے تعمیر پر انتہائی خوش ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف اس کے متصل واقع دوسرے پل پر رش کم ہوگا اور ٹریفک کی نقل و حمل میں کوئی دقت نہیں ہوگی وہیں لوگوں کو بھی آسائش ہوگی۔










