سرینگر: جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے منگل کے روز رشوت طلب کرنے اور وصول کرنے کے الزام میں چار سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کر لیا۔
ایک مقدمہ پولیس اسٹیشن اے سی بی ادھم پور جبکہ دو مقدمات پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں درج کیے گئے ہیں۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ اے سی بی کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی جس میں الزام لگایا گیا کہ انیل جموال، جونیئر اسسٹنٹ (دفتر سپرنٹنڈنگ انجینئر پی ڈبلیو ڈی آر اینڈ بی ادھم پور) اور جیت کمار، کمپیوٹر آپریٹر (دفتر ایگزیکٹو انجینئر پی ڈبلیو ڈی آر اینڈ بی ادھم پور) نے شکایت کنندہ سے کنٹریکٹر کارڈ کے اجرا کے عوض رشوت طلب کی۔ چونکہ شکایت کنندہ رشوت دینا نہیں چاہتا تھا، اس نے قانونی کارروائی کے لیے اے سی بی سے رجوع کیا۔
شکایت موصول ہونے کے بعد ایک خفیہ تصدیق کی گئی، جس میں متعلقہ سرکاری ملازمین کی جانب سے رشوت طلب کرنے کی تصدیق ہو گئی۔ اس کے بعد پولیس اسٹیشن اے سی بی ادھم پور میں ایک ایف آئی آر کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ڈپٹی ایس پی رینک افسر کی قیادت میں ایک ٹریپ ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو آزاد گواہوں کی موجودگی میں شکایت کنندہ سے۱۲ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔
رشوت کی رقم بھی ملزمان کے قبضے سے آزاد گواہوں کی موجودگی میں برآمد کی گئی۔ اس کے علاوہ رام نگر اور لڈن پاور ہاؤس ادھم پور میں مجسٹریٹ کی موجودگی میں تلاشی کارروائیاں بھی انجام دی گئیں۔
ایک دوسرے معاملے میں اے سی بی کو ایک شکایت موصول ہوئی جس میں الزام لگایا گیا کہ اے ایس آئی زمرد مانہاس نے شکایت کنندہ کو پولیس اسٹیشن مینڈھر طلب کیا، جہاں عبدالق یوم کی جانب سے رقم واپس نہ کرنے کی شکایت درج تھی۔ شکایت کنندہ نے رقم واپس کرنے کے لیے کچھ وقت مانگا، جس پر عبدالق یوم راضی ہو گیا۔
تاہم اس کے بعد اے ایس آئی زمرد مانہاس نے معاملہ نمٹانے کے لیے شکایت کنندہ سے رشوت طلب کرنا شروع کر دی اور دھمکی دی کہ اگر رشوت نہ دی گئی تو اسے پی ایس اے کے تحت بند کر دیا جائے گا۔
چونکہ شکایت کنندہ ایک غریب شخص ہے اور غیر قانونی رقم دینا نہیں چاہتا تھا، اس نے پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں تحریری شکایت درج کرائی۔ اس پر پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں ایک ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کی گئی۔
تفتیش کے دوران ایک ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے اے ایس آئی زمرد مانہاس کو شکایت کنندہ سے۵ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کیا گیا، جس کے بعد مینڈھر، سورنکوٹ اور جموں میں اس کی رہائشی جگہوں پر تلاشی کارروائیاں انجام دی گئیں۔
ایک اور معاملے میں اے سی بی کو تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ شکایت کنندہ نے پٹواری محمد رزاق (پٹوار حلقہ سوکر/پروری، کوٹرنکہ) سے اپنے تین بیٹیوں کے نام ریونیو ریکارڈ میں درج کرانے کے لیے رجوع کیا تھا۔ تاہم متعلقہ پٹواری نے خسرہ گرداوری میں نام درج کرنے کے عوض رشوت طلب کی۔ چونکہ شکایت کنندہ غریب ہے اور رشوت دینا نہیں چاہتا تھا، اس نے پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں تحریری شکایت درج کرائی۔
اس پر پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں ایک ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کی گئی۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد اے سی بی راجوری کی ٹیم نے محمد رزاق پٹواری کو شکایت کنندہ سے۱۰ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں اس کی رہائش گاہ پر تلاشی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔
عہدیدار نے مزید بتایا کہ تینوں مقدمات میں مزید تفتیش جاری ہے۔










