جموں: جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں واقع پیر پنجال کی برف پوش چوٹیوں پر فوج نے دہشت گردانہ نقل و حرکت کو روکنے اور سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تلاشی اور نگرانی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ خطے میں مسلسل برفباری اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی ڈگری نیچے گر جانے کے باوجود فوجی دستے ۱۳ہزار فٹ سے زائد بلندی پر نہایت سخت حالات میں آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فوجی ذرائع کے مطابق رواں موسم سرما میں برفباری معمول سے زیادہ ہے جس کے باعث گھنے جنگلات، کھڑی ڈھلوانوں اور دشوار گزار وادیوں میں گشت اور نگرانی مزید مشکل ہو گئی ہے ۔ تاہم سرحدی حساسیت اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر رومیؤ فورس نے اپنے آپریشنز میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی۔
اطلاعات کے مطابق فوجی ٹیمیں مربوط سرچ آپریشنز کے تحت مختلف علاقوں میں برف سے ڈھکی چوٹیوں، درّوں اور ایسے مقامات پر گشت کر رہی ہیں جہاں سے دراندازی کا خطرہ یا دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا امکان رہتا ہے ۔ پونچھ اور راجوری بیلٹ کی پہاڑی پٹی، جو حالیہ برسوں میں کئی دہشت گردانہ کارروائیوں کا مرکز رہی ہے ، موسم سرما میں بھی فوج کی خصوصی توجہ کا محور بنی ہوئی ہے ۔
فوجی اہلکاروں کو ان کارروائیوں کے دوران نہ صرف منفی درجہ حرارت، گھٹن زدہ ہوا اور کم دکھائی دینے والے ماحول کا سامنا ہے ، بلکہ برفانی تودوں کے خطرات سمیت تیز ہواؤں اور بادل پھٹنے جیسے موسمی عوامل سے بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے ۔ اس کے باوجود فوجی دستے منظم انداز میں برف سے ڈھکی چوٹیوں پر آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکار مسلسل رابطے میں رہ کر مشتبہ علاقوں کی نشاندہی، نگرانی اور سیکیورٹی گرڈ کو مضبوط بنانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔
شدید سردی کے باوجود ان کارروائیوں کا مقصد سرحدی علاقوں میں کسی بھی قسم کی دراندازی یا دہشت گردانہ سرگرمی کو روکنا اور مقامی بستیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے ۔ فوج نے واضح کیا ہے کہ خراب موسم یا مشکل حالات آپریشنل سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں بنیں گے ، بلکہ سیکیورٹی ایجنسیاں مسلسل ہم آہنگی کے ساتھ ہر صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ برفانی علاقوں میں اس تیزی سے بڑھائے گئے سرچ آپریشنز نے دہشت گرد نیٹ ورکس پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے ، جب کہ حساس مقامات کی سی سی ٹی وی اور گراؤنڈ نگرانی کو بھی مزید مستحکم کیا گیا ہے ۔










