بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

خوش آمدید چلہ کلان

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-12-21
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

کشمیر میں آج سے چلہ کلان کا آغاز ہو رہا ہے۔موسمِ سرما کا وہ چالیس روزہ مرحلہ جو صدیوں سے اس خطے کی زندگی، معیشت اور اجتماعی نفسیات پر گہرے نقوش چھوڑتا آیا ہے۔ یہ وہ ایام ہیں جنہیں شدید اس لیے کہا جاتا ہے کہ سردی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور برفباری کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ چلہ کلان صرف موسم کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو کشمیری معاشرے کی یادداشت میں خوف، صبر، آزمائش اور بقا کے استعارے کے طور پر محفوظ ہے۔
ماضی میں چلہ کلان کے دوران نہ صرف بالائی علاقوں بلکہ میدانی علاقوں اور خود سرینگر میں بھی کئی کئی فٹ برفباری ایک معمول ہوا کرتی تھی۔ ایسی برفباری سے وادی ہفتوں بلکہ بعض اوقات مہینوں تک ملک کے دیگر حصوں سے کٹ جاتی تھی۔ راستے بند ہو جاتے، ہوائی اور زمینی رابطے معطل ہو جاتے اور زندگی ایک محدود دائرے میں سمٹ کر رہ جاتی تھی۔ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود، قدرتی نظام کے لیے یہی برفباری زندگی کا سرچشمہ بھی ہوتی تھی۔
یہ برف گلیشیئروں کو مضبوط کرتی، چشموں کو جِلا بخشتی، ندی نالوں اور جھیلوں کو توانائی فراہم کرتی اور فضا کو آلودگی سے پاک کر دیتی تھی۔ یوں سردیوں کی سختی دراصل آنے والے موسموں کی خوشحالی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ کشمیر کا پورا آبی نظام اسی برف پر انحصار کرتا ہے، اور یہی برف گرمیوں میں وادی کو زندگی فراہم کرتی ہے۔
تاہم چلہ کلان کا ایک دوسرا، تلخ پہلو بھی رہا ہے۔ ایک عام کشمیری کے لیے یہ دن سہولتوں کے فقدان اور مشکلات کی انتہا کی علامت تھے۔ بھاری برفباری کے بعد بجلی ہفتوں تک غائب رہتی، پینے کا پانی جم جاتا، سڑکیں اور گلی کوچے ناقابلِ استعمال ہو جاتے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے۔ بیماروں، بزرگوں اور بچوں کے لیے یہ دن خاص طور پر کٹھن ہوتے تھے۔ یہی وہ وجوہات تھیں جن کی بنا پر چلہ کلان کو بددعاؤں اور شکووں کے ساتھ یاد کیا جاتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ موسم کا رویہ بدلنے لگا۔ ایک ایسا دور آیا جب چلہ کلان میں برفباری کم ہوتی چلی گئی۔ پھر بعض برس ایسے بھی آئے جب یہ پورا دورانیہ تقریباً خشک ہی رہا۔ ابتدا میں اس تبدیلی کو راحت کے طور پر دیکھا گیا۔ سڑکیں کھلی رہیں، بجلی کا نظام متاثر نہ ہوا، کاروبار اور نقل و حرکت جاری رہی۔ ایک عام کشمیری نے اس صورتحال کو آسانی کے طور پر قبول کیا اور چلہ کلان کے بغیر برف کے گزر جانے پر سکون کا سانس لیا۔
لیکن یہ سکون عارضی ثابت ہوا۔ آج اس تبدیلی کے نتائج پوری شدت کے ساتھ سامنے آ چکے ہیں۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، آبی ذخائر سکڑ رہے ہیں، ندی نالے اور چشمے کمزور ہو چکے ہیں اور جھیلوں کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے۔ وادی اس وقت ایک طویل خشک دورانیے سے گزر رہی ہے جس نے زراعت، پینے کے پانی اور ماحول تینوں کو متاثر کیا ہے۔
اس خشک موسم کے صحت پر اثرات بھی واضح ہیں۔ فضاء میں معلق ذرات کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں سانس اور سینے کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر اس بات پر متفق ہیں کہ بارش اور برفباری ہی وہ قدرتی عمل ہے جو فضا کو صاف کر سکتا ہے اور آلودگی کے اس بوجھ کو کم کر سکتا ہے۔
ایسے میں چلہ کلان ایک بار پھر وادی میں داخل ہو رہا ہے، مگر اس بار اس کے استقبال کا انداز مختلف ہے۔ آج کشمیری چلہ کلان کو بددعا نہیں دے رہا بلکہ امید اور دعا کے ساتھ اس کا سامنا کر رہا ہے۔ آج نظریں آسمان کی طرف ہیں، منتظر ہیں کہ بادل برسیں، کہ برف گرے، کہ یہ طویل خشک سالی کا خاتمہ بنے اور وادی کو نئی سانس ملے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئیاں اس امید کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔ میدانی علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں درمیانی سے شدید برفباری کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ایڈوائزری کا اجرا اس بات کی علامت ہے کہ برفباری کو اب صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور ناگزیر موسمی عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے لیے تیاری ضروری ہے۔
گلمرگ جیسے سیاحتی مقامات پر اس موسم میں برف نہ پڑنے سے جہاں سیاحت کو نقصان پہنچا ہے، وہیں اس حقیقت نے بھی چونکا دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے برسوں میں کشمیر کو سنگین ماحولیاتی اور آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چلہ کلان ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ وقتی آسانی ہمیشہ فائدہ نہیں ہوتی۔ وہ سردیاں جنہیں ہم نے برف کے بغیر خوشی خوشی گزارا، آج وہی ہمارے لیے سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔ قدرت کے نظام میں مداخلت یا اس کی تبدیلی کے اثرات دیر سے ظاہر ہوتے ہیں، مگر جب ظاہر ہوتے ہیں تو ان سے نمٹنا آسان نہیں رہتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ چلہ کلان کو محض ایک موسمی مرحلہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک تنبیہ کے طور پر لیا جائے۔ بہتر بنیادی ڈھانچہ، مضبوط بجلی اور سڑکوں کا نظام، برفباری سے نمٹنے کی تیاری اور سب سے بڑھ کر ماحولیاتی شعور‘یہ سب اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاکہ برفباری آئے تو زندگی مفلوج نہ ہو، اور اگر نہ آئے تو تشویش ہمیں غفلت سے باہر نکال دے۔
چلہ کلان آج پھر شروع ہو رہا ہے۔ مگر اس بار کشمیری اسے گالیاں نہیں دے رہا، بلکہ دعا مانگ رہا ہے۔ شاید یہی تبدیلی‘سوچ کی، احساس کی، ترجیح کی‘وادی کو آنے والے برسوں میں خشک سالی، ماحولیاتی بحران اور وجودی خطرات سے بچا سکے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

خان صاحب کو لمبی جیل مبار ک!

Next Post

روہت شرما وجے ہزارے ٹورنامنٹ میں ممبئی کے لیے دو میچ کھیلیں گے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
Next Post
روہت چاہیں گے جنوبی افریقہ کی فتح کے سلسلہ کو روکنا

روہت شرما وجے ہزارے ٹورنامنٹ میں ممبئی کے لیے دو میچ کھیلیں گے

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.