لاہور، 12 دسمبر (یواین آئی) آل راؤنڈر شاداب خان نے کہا ہے کہ بگ بیش لیگ میں اس مرتبہ پاکستانی کھلاڑیوں کی غیر معمولی شمولیت سے جہاں ٹیموں کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، وہیں لیگ کی شہرت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سڈنی سے ورچوئل میڈیا گفتگو میں شاداب خان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم نے نئے سیزن کے لیے بھرپور تیاری کی ہے اور وہ گزشتہ برس کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے پرامید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان کے بڑے نام اس مرتبہ بی بی ایل کھیل رہے ہیں، پاکستان کے بڑے ناموں کی وجہ سے لیگ کو بھی شہرت مل رہی ہے، پہلے بھی پاکستان کے کرکٹرز آسٹریلیا آکر کھیلتے رہے ہیں لیکن ایک ساتھ اتنی تعداد پہلے نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تو ہم ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے رہے ہیں، بیرون ملک پہلی مرتبہ کھیل رہے ہیں، ہم سب ایک دوسرے کے خلاف کھیلنے کے منتظر ہیں، دوستوں کے خلاف کھیلنے کا الگ احساس ہے۔
شاداب خان نے کہا کہ بی بی ایل میرے لیے بڑی اہم ہے، 5 ماہ کے بعد میں ایکشن میں ہوں گا، بی بی ایل میرے لیے اچھا موقع ہے، مجھے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے، انجری ہونا کھیل کا حصہ ہے، ایسا نہیں ہے کہ مجھے ہی انجری ہوتی ہے۔
آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ فینز بھی پُرجوش ہیں، وہ بی بی ایل شروع ہونے کے منتظر ہیں، 2022 میں ہم نے یہاں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلا، بہت سپورٹ ملی تھی، بی بی ایل میں بھی پاکستان کے بڑے نام ایکشن میں ہوں گے۔
شاداب خان کا ماننا ہے کہ پیٹ کمنز ایک بڑا نام ہیں، ان سے سیکھنے کا موقع ملے گا، ڈیوڈ وارنر بھی ٹیم میں ہیں، بڑے ناموں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا فائدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کی وکٹ لینے سے ہی مجھے سپر فٹ مان نہیں لینا چاہیے، ہم ایک دوسرے کو قریب سے جانتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ میچ والے دن کیا ہوتا ہے، کوشش یہی ہو گی کہ فرنچائز کی توقعات پر پورا اتروں۔
واضح رہے کہ شاداب خان بگ بیش لیگ میں سڈنی تھنڈر کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین آفریدی ، حسن علی اور حارث رؤف بھی مختلف فرنچائزز سے ایکشن میں ہوں گے۔






