لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز جموں ضلع میں اْن خاندانوں کے لیے نئے مکانات کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا جو حالیہ قدرتی آفات اور آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی بلااشتعال گولہ باری سے متاثر ہوئے تھے۔
اس منصوبے کے تحت ۳۵۰ مکانات تعمیر کیے جائیں گے جن کی مجموعی لاگت ۳۵ کروڑ روپے ہے۔ یہ تین کمروں پر مشتمل مضبوط اور جدید طرز کے مکانات ایک رفاہی ادارے ایچ آر ڈی ایس انڈیا کے تعاون سے مکمل طور پر بلا معاوضہ تعمیر کیے جائیں گے اور اس پر سرکاری خزانے کا کوئی بوجھ نہیں آئے گا۔ مکانات کی تکمیل کا ہدف چھ ماہ مقرر کیا گیا ہے۔ ہر گھر میں ضروری سہولیات کے ساتھ ساتھ گائے رکھنے کے لیے علیحدہ شیڈ بھی بنایا جائے گا۔
منوج سنہا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر رفاہی ادارے کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ برسوں میں لاکھوں غریبوں کو مختلف سرکاری اسکیموں سے فائدہ پہنچا ہے اور پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی ڈھانچے کو نمایاں طور پر بہتر بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق جموں کی تیز رفتار ترقی ’’بے مثال‘‘ ہے اور خطہ تمام چیلنجوں کے باوجود مضبوط ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں، جو مندروں کا مقدس شہر ہے، کو ایک جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا شہری مرکز بنانے کی مسلسل کوشش جاری ہے۔ ان کے مطابق ہمہ جہتی ترقی کے لیے کیے گئے عملی اقدامات نے غربت کے خاتمے، سماجی انصاف اور سب کے لیے مساوی مواقع کے خواب کو حقیقت کے قریب پہنچا دیا ہے۔
سنہا نے کہا کہ خطے میں تیز رفتار معاشی ترقی اور سماجی تبدیلی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق کم وقت میں بڑی تعداد میں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جنہوں نے جموں کے شہری ڈھانچے اور عوامی سہولیات کو مضبوط کیا ہے۔ جدید سہولتوں، بہتر نقل و حرکت، منظم شہری خدمات اور بہتر شہری منظرنامے کے باعث جموں کی مجموعی شکل سنور کر سامنے آئی ہے۔
ایل جی نے قدرتی آفت کے بعد متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے اور ان کی دیکھ بھال میں ضلعی انتظامیہ اور مختلف اداروں کی غیر معمولی ہم آہنگی اور لگن کی تعریف کی۔
مکانات کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ادارہ متاثرہ خاندانوں کو ایک فلاحی پیکیج بھی فراہم کرے گا، جس میں پندرہ برس تک مفت جان بیمہ، ہر سال مفت طبی معائنہ، اور گھروں کی پانچ برس تک دیکھ بھال شامل ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے قدرتی آفت کے وقت متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے اور ان کی دیکھ بھال میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، فوج، نیم فوجی دستوں، امدادی اداروں اور رضاکاروں کی بھرپور کوششوں کو سراہا۔ ان کے مطابق ضلع میں۴ ہزار ۳۰۹ متاثرین کی مدد کی گئی اور۸کروڑ ۲۲ لاکھ روپے بطور معاوضہ تقسیم کیے گئے۔ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شہری کے لواحقین کو سرکاری ملازمت اور مالی امداد بھی دی گئی۔
متاثرہ خاندانوں میں راہ سلیوٹے گاؤں کے ۲۳ خاندان بھی شامل ہیں، جو لینڈ سلائڈنگ کے باعث بے گھر ہوئے تھے۔ ضلعی انتظامیہ گزشتہ تین ماہ سے ان کو خوراک اور عارضی رہائش فراہم کر رہی ہے۔
تقریب میں رفاہی ادارے کے صدر سوامی اتما نمبی، ضلع ترقیاتی کونسل کے چیئرمین، اعلیٰ انتظامی و پولیس افسران، عوامی نمائندگان اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔










