حکام نے بتایا کہ پیر کے روز سرینگر ایئرپورٹ پر کل ۶۴ شیڈول پروازیں آپریٹ ہوئیں، جن میں انڈیگو کی۳۶ پروازیں شامل تھیں۔
ایئرپورٹ حکام کے مطابق شیڈول کے مطابق کل۳۲ آمد اور ۳۲ روانگیاں ہونی تھیں، یوں مجموعی طور پر ۶۴ موومنٹس ریکارڈ ہوئیں۔
ان میں سے انڈیگو نے۱۸ آمد اور ۱۸ روانگیاں یعنی مجموعی طور پر ۳۶ موومنٹس انجام دیں۔اس کے علاوہ، ایئر لائن کی ۸آمد اور ۸ روانگیاں منسوخ ہوئیں، جس سے کل ۱۶موومنٹس منسوخ ہوئیں۔
دیگر کسی ایئر لائن کی طرف سے منسوخی کی اطلاع نہیں ملی۔حکام نے بتایا کہ صرف دو انڈیگو پروازوں کو دن کے دوران تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
ایئرپورٹ اور ایئرلائن حکام نے کہا کہ مجموعی طور پر آپریشن ہموار رہے، اور معمول کی مانیٹرنگ اور گراؤنڈ ہینڈلنگ کے باعث مسافروں کو کم سے کم خلل کا سامنا کرنا پڑا۔
اس دوران ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کی جانب سے انڈیگو کی پروازوں میں بڑے پیمانے پر تعطل کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی بدھ کے روز ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیٹر ایلبرز اور چیف آپریٹنگ آفیسر اسیدر پورکیرس کو طلب کرنے کا امکان ہے، ایک ذرائع نے پیر کو بتایا۔
چار رکنی پینل میں جوائنٹ ڈی جی سنجے برہمَنے، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل امیت گپتا، سینئر فلائٹ آپریشنز انسپکٹر کپِل مَنگلِک اور ایف او آئی لوکیش رامپال شامل ہیں۔ اس کمیٹی کو وسیع پیمانے پر آپریشنل تعطل کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کا کام سونپا گیا ہے۔ اس کا دائرۂ کار افرادی قوت کی منصوبہ بندی، متغیر روسترنگ سسٹم اور پائلٹس کے نئے ڈیوٹی اور آرام کے اصولوں پر عمل درآمد کی تیاری کا جائزہ لینا بھی شامل ہے۔
یہ پینل ڈی جی سی اے کے سربراہ فیض احمد کڈوائی کی جانب سے ۵ دسمبر کو اعلان کیا گیا تھا۔ کمیٹی ترمیم شدہ ایف ڈی ٹی ایل قواعد پر عمل درآمد کے معیار کا جائزہ بھی لے گی، جن میں انڈیگو کی جانب سے تسلیم شدہ خامیوں کا تجزیہ، اور آپریشنل استحکام میں خرابی کے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی شامل ہے۔
ایک ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا’’پینل ممکنہ طور پر بدھ کو انڈیگو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیٹر ایلبرز اور چیف آپریٹنگ آفیسر اسیدر پورکیرس کو ایئرلائن کی پروازوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی افراتفری کی تحقیقات کے سلسلے میں طلب کرے گا۔‘‘









