نئی دہلی، 3 دسمبر (یواین آئی) ہندوستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر، جو بدھ کی صبح فی ڈالر 90 روپے کی ریکارڈ کم ترین سطح سے بھی نیچے چلی گئی، گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان کو درپیش شدید ترین کرنسی دباؤ میں سے ایک ہے ۔ یہ گراوٹ اچانک نہیں آئی بلکہ یہ گھریلو کمزوریوں اور دنیا کے تبدیل ہوتے حالات کے اس مجموعی اثر کا نتیجہ ہے جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کیا اور ڈالر کی مانگ میں اضافہ کیا۔ روپے کی کمزوری کی بنیادی وجہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے ۔ ہندوستان نے اپریل تا اکتوبر 2025 کے دوران 196.82 ارب امریکی ڈالر کا ریکارڈ تجارتی خسارہ درج کیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25 ارب ڈالر سے زائد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے ۔ تقریباً 200 ارب ڈالر کا یہ خسارہ واضح کرتا ہے کہ درآمدات، برآمدات کے مقابلے کس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس فرق کا براہِ راست اثر یہ ہوا کہ درآمد کنندگان کو زیادہ ڈالر خریدنے پڑے جس سے مقامی بازاروں میں ڈالر کی فراہمی میں کمی آئی اور روپیہ مزید دباؤ میں آگیا۔
عالمی مانگ میں کمی کے باعث ہندوستان کی برآمدات پہلے ہی مشکلات کا شکار تھیں جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عائد کردہ ٹیرف پالیسی نے مزید متاثر کیا۔ روس سے خام تیل کی خریداری کی ‘سزا’ کے طور پر تقریباً تمام ہندوستانی برآمداتی شعبوں پر 50 فیصد کا بھاری ٹیرف عائد کردیا گیا۔ ٹیکسٹائل، جواہرات و زیورات، دواسازی اور کیمیکلز جیسے اہم برآمداتی شعبوں کو ایسے وقت میں نئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ وہ پہلے ہی کمزور حالت میں تھے ۔ برآمدات تقریباً جمود کا شکار رہیں اوراس سال اپریل تا اکتوبر کے دوران صرف 0.6 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا جبکہ سونے جیسی کچھ درآمدات میں تیزی آگئی۔ جس نے تجارتی توازن کو مزید بگاڑا اور ڈالر کی مانگ میں اضافہ کیا۔ بیرونی ماحول نے بھی ایسے دباؤ کو مزید شدید کردیا۔ امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور فیڈرل ریزرو کے طویل عرصے تک شرحِ سود کو بلند رکھنے کے فیصلے نے ڈالر کو عالمی سطح پر مضبوط کیا جس کے نتیجے میں سرمایہ امریکہ کی جانب منتقل ہوا اور ایشیائی مارکیٹوں میں سرمائے کی کمی ہونے لگی۔
اس کا اثر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے رویے میں صاف نظر آیا۔ اس سال اب تک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار ہندوستانی ایکویٹیز سے 17 ارب ڈالر نکال چکے ہیں جس کی وجہ سے ابھرتی ہوئی منڈیوں کے خطرات اورہند ۔ امریکہ تجارتی معاہدے کی غیر یقینی صورتحال تھی۔ اسی دوران ہندوستانی درآمد کنندگان نے مزید مہنگا ہونے سے پہلے بڑی مقدار میں ڈالرخریدنا شروع کر دیے جبکہ برآمد کنندگان نے بہتر شرح کے انتظار میں خطرے سے بچاؤ کی حکمت عملی مؤخر کردی۔ اس حکمتِ عملی نے ڈالر کی مانگ اورفراہمی میں مزید عدم توازن پیدا کیا جس سے روپے پر دباؤ کچھ اور بڑھا۔
اس عرصے میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) روپے کو سہارا دینے کے لیے مسلسل معاونت کرتا رہا اور بڑے پیمانے پر ڈالر فروخت کیے جس کے نتیجے میں اکتوبر 2024 سے اب تک زرمبادلہ کے ذخائر میں 47 ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی آئی ہے ۔ تاہم مرکزی بینک کے پالیسی ساز جو اس ہفتے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ آر بی آئی مسلسل ڈالر فروخت نہیں کرسکتا۔ مستقل مداخلت سے روپے کی لیکویڈیٹی متاثر ہوتی ہے ، خصوصاً ایسے وقت میں جب بینکاری نظام پہلے ہی کساد بازاری کا شکار ہے ۔ اسی وجہ سے آر بی آئی کے لیے گھریلو مارکیٹ کو غیر مستحکم کیے بغیر زیادہ مداخلت کرنا ممکن نہیں رہا۔ نتیجتاً روپے کو ایک نیا توازن تلاش کرنا پڑا۔ کرنسی اس سال تقریباً 5 فیصد کمزور ہوئی ہے جس سے وہ 2025 میں ایشیا کی بدترین کارکردگی والی کرنسی بن گئی۔ مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق اگر شرحِ سود، تجارتی مذاکرات یا سرمایہ کے بہاؤ سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلیاں نہ کی گئیں تو دسمبر تک روپے کی قدر 89 سے 91 روپے فی ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے ۔
اس کمزوری کی ایک ساختیاتی وجہ بھی ہے اگرچہ ہندوستان کی معاشی شرحِ نمو اب بھی کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے مگر درآمدات پر زیادہ بھروسہ، غیر ملکی سرمائے پر زبردست انحصار اور عالمی کموڈیٹی مارکیٹوں سے وابستگی روپے کو اُس وقت کمزور بناتی ہے جب عالمی سرمایہ کاری کا رجحان کم ہوجاتا ہے ۔
پہلے کے مقابلے اس صورتحال کو جو چیز ممیز کرتی ہے وہ روپے کی قدر میں آئی کمی نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی عوامل ہیں۔ جن میں ریکارڈ تجارتی خسارہ، عالمی ٹیرف جنگیں، غیر ملکی سرمایہ کی نکاسی، ڈالر کی مضبوط قدر اور آر بی آئی کی جانب سے معاونت کے محدود وسائل شامل ہیں۔










