بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home تازہ تریں

سپریم کورٹ کی آن لائن مواد پر سخت نگرانی کی تجویز،’موجودہ خود ساختہ ضابطے ناکافی‘ ’

آزادیٔ اظہار کا احترام ہر حال میں ضروری ‘لیکن اس کے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘پیشگی روک تھام کے اصول طے ہونے چاہئیں

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-28
in تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, قومی خبریں
A A
۱۳ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد 
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘

مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر

‘سرینگر/۲۷ نومبر
سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ سوشل میڈیا کے مواد پر مؤثر کنٹرول کے لیے ایک خود مختار ادارہ ضروری ہے، کیونکہ موجودہ خود ساختہ ضابطے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا آدھار نمبر کے ذریعے ایسے آن لائن مواد تک رسائی سے پہلے عمر کی تصدیق کی جا سکتی ہے جسے ’فحش‘ یا ’نامناسب‘سمجھا جاتا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیا بگچی یہ ریمارکس اْس وقت دے رہے تھے جب وہ یوٹیوبر رنویر اللہ بادیا اور دیگر کی اْن درخواستوں کی سماعت کر رہے تھے جن میں ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ شو کے دوران فحش تبصروں کے الزام میں درج ایف آئی آرز کو چیلنج کیا گیا ہے۔
مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ مسئلہ صرف فحاشی تک محدود نہیں بلکہ ’بدکاری‘ تک پھیلا ہوا ہے، اور ’یوزر جنریٹڈ کنٹینٹ‘ کے نظام میں واضح خامیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص اپنا یوٹیوب چینل بنا کر بغیر کسی حقیقی ضابطے کے مواد جاری کر سکتا ہے۔
اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی نے بتایا کہ حکومت نے اس حوالے سے نئے رہنما خطوط تجویز کیے ہیں۔
مداخلت کار کے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ معاملہ آزادیٔ اظہار سے جڑا ہے، اس لیے حتمی قواعد بنانے سے پہلے وسیع عوامی مشاورت ضروری ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے گی۔
سینئر وکیل امیت سبّل نے، انڈین براڈکاسٹ اینڈ ڈیجیٹل فاؤنڈیشن کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے، کہا کہ ضابطے پہلے سے موجود ہیں‘ آئی ٹی رولز ۲۰۲۱‘ جنہیں دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دفعات معطل ہونے کے باوجود نیٹ فلیکس جیسے او ٹی ٹی پلیٹ فارم رضاکارانہ طور پر ان پر عمل کر رہے ہیں، اور جسٹس (ریٹائرڈ) گیتا مِتّل کی زیر نگرانی شکایات کے ازالے کا نظام بھی موجود ہے۔
چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اگر خود ضابطگی واقعی مؤثر ہے تو اس کے باوجود ایسے واقعات بار بار کیوں پیش آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایسی ’خود ساختہ‘باڈیز کافی نہیں اور ایک غیر جانبدار، آزاد ادارے کی ضرورت ہے جو صنعتی مفادات اور سرکاری اثر سے آزاد ہو۔
ایس جی مہتا کی جانب سے ’بدکاری‘ والے مواد کا ذکر کرنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ کم از کم ایسا مواد جاری کرنے سے پہلے واضح انتباہ ہونا چاہیے۔ جسٹس بگچی نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کا احترام ہر حال میں ضروری ہے، لیکن اس کے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے پیشگی روک تھام کے اصول طے ہونے چاہئیں۔
چیف جسٹس نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف چند سیکنڈ کا وارننگ کارآمد نہیں، اور ممکن ہے کہ عمر کی تصدیق کے لیے آدھار کی بنیاد پر ایک مرحلہ رکھا جائے، تاکہ بالغوں کے مواد کو محدود کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک ابتدائی تجویز ہے اور کسی بھی نئے نظام کو آزمائشی طور پر شروع کیا جا سکتا ہے، تاکہ اگر وہ آزادی ٔ اظہار پر غیر ضروری بوجھ ڈالے تو اس پر نظرثانی ہو سکے۔
بعض وکلا نے اس پر اظہارِ تشویش کیا کہ ضابطے سخت ہوئے تو کہیں اظہار رائے کی آزادی متاثر نہ ہو۔ عدالت نے کہا کہ وہ کسی کے ’منہ بند کرنے‘ کے حق میں نہیں، لیکن اگر موجودہ نظام مؤثر ہوتا تو ایسے واقعات پیش ہی نہ آتے۔
عدالت معذور افراد کی ایک تنظیم کی اس درخواست کی بھی سماعت کر رہی تھی، جس میں مزاحیہ فنکاروں سمے رائنا، وپن گوئل، بلراج گھئی، سونالی ٹھکر اور نشانت تنیوَر پر معذور افراد کے بارے میں نامناسب لطیفے بنانے کا الزام ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا معذور افراد کی تذلیل کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ جیسا سخت قانون ہونا چاہیے؟
انہوں نے کہا کہ ’’ایسا قانون بنائیں جس میں ان کی تضحیک پر سخت سزا ہو۔‘‘ سالیسٹر جنرل نے اتفاق کیا کہ مزاح کسی کی عزتِ نفس مجروح کرنے کی قیمت پر نہیں ہو سکتا۔
(ندائے مشرق ڈیسک )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ایم بی بی ایس داخلہ تنازعہ:جموںمیں ہندو جماعتوں کا احتجاج

Next Post

سرینگر بھر میں مدارس اور مساجد کا معائنہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘
اہم ترین

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘

2026-07-22
مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر
اہم ترین

مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر

2026-07-22
’ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کی بنیاد ہے‘
اہم ترین

’ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کی بنیاد ہے‘

2026-07-22
’حکومت سیاسی سرگرمیاں معطل کرے‘ باز آباد کاری پر توجہ دے‘
اہم ترین

’حکومت سیاسی سرگرمیاں معطل کرے‘ باز آباد کاری پر توجہ دے‘

2026-07-22
’جھلستی دھوپ کے باعث تعطیلات ہوئیں، اب بارشوں کے سبب توسیع، یہ کیسا فیصلہ؟‘
اہم ترین

’جھلستی دھوپ کے باعث تعطیلات ہوئیں، اب بارشوں کے سبب توسیع، یہ کیسا فیصلہ؟‘

2026-07-22
جموں کشمیر کے تمام اسکولوں کی  گرمائی تعطیلات۲۶ جولائی تک توسیع
اہم ترین

جموں کشمیر کے تمام اسکولوں کی گرمائی تعطیلات۲۶ جولائی تک توسیع

2026-07-22
وزیر اعلیٰ کا جموں و کشمیر کیلئے مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ
اہم ترین

 بارش کے بعد آبی جماؤ  پر وزیر اعلیٰ کا  اسمارٹ سٹی  منصوبے کی تحقیقات کا اعلان

2026-07-22
’ منشیات کے مسئلہ براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے‘
اہم ترین

 چہرہ شناختی نظام کی مدد سے یو اے پی اے کا ملزم اننت ناگ میں گرفتار

2026-07-22
Next Post
سرینگر بھر میں مدارس اور مساجد کا معائنہ

سرینگر بھر میں مدارس اور مساجد کا معائنہ

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.