‘سرینگر/۲۷ نومبر
سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ سوشل میڈیا کے مواد پر مؤثر کنٹرول کے لیے ایک خود مختار ادارہ ضروری ہے، کیونکہ موجودہ خود ساختہ ضابطے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا آدھار نمبر کے ذریعے ایسے آن لائن مواد تک رسائی سے پہلے عمر کی تصدیق کی جا سکتی ہے جسے ’فحش‘ یا ’نامناسب‘سمجھا جاتا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیا بگچی یہ ریمارکس اْس وقت دے رہے تھے جب وہ یوٹیوبر رنویر اللہ بادیا اور دیگر کی اْن درخواستوں کی سماعت کر رہے تھے جن میں ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ شو کے دوران فحش تبصروں کے الزام میں درج ایف آئی آرز کو چیلنج کیا گیا ہے۔
مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ مسئلہ صرف فحاشی تک محدود نہیں بلکہ ’بدکاری‘ تک پھیلا ہوا ہے، اور ’یوزر جنریٹڈ کنٹینٹ‘ کے نظام میں واضح خامیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص اپنا یوٹیوب چینل بنا کر بغیر کسی حقیقی ضابطے کے مواد جاری کر سکتا ہے۔
اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی نے بتایا کہ حکومت نے اس حوالے سے نئے رہنما خطوط تجویز کیے ہیں۔
مداخلت کار کے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ معاملہ آزادیٔ اظہار سے جڑا ہے، اس لیے حتمی قواعد بنانے سے پہلے وسیع عوامی مشاورت ضروری ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے گی۔
سینئر وکیل امیت سبّل نے، انڈین براڈکاسٹ اینڈ ڈیجیٹل فاؤنڈیشن کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے، کہا کہ ضابطے پہلے سے موجود ہیں‘ آئی ٹی رولز ۲۰۲۱‘ جنہیں دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ دفعات معطل ہونے کے باوجود نیٹ فلیکس جیسے او ٹی ٹی پلیٹ فارم رضاکارانہ طور پر ان پر عمل کر رہے ہیں، اور جسٹس (ریٹائرڈ) گیتا مِتّل کی زیر نگرانی شکایات کے ازالے کا نظام بھی موجود ہے۔
چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اگر خود ضابطگی واقعی مؤثر ہے تو اس کے باوجود ایسے واقعات بار بار کیوں پیش آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایسی ’خود ساختہ‘باڈیز کافی نہیں اور ایک غیر جانبدار، آزاد ادارے کی ضرورت ہے جو صنعتی مفادات اور سرکاری اثر سے آزاد ہو۔
ایس جی مہتا کی جانب سے ’بدکاری‘ والے مواد کا ذکر کرنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ کم از کم ایسا مواد جاری کرنے سے پہلے واضح انتباہ ہونا چاہیے۔ جسٹس بگچی نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کا احترام ہر حال میں ضروری ہے، لیکن اس کے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے پیشگی روک تھام کے اصول طے ہونے چاہئیں۔
چیف جسٹس نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف چند سیکنڈ کا وارننگ کارآمد نہیں، اور ممکن ہے کہ عمر کی تصدیق کے لیے آدھار کی بنیاد پر ایک مرحلہ رکھا جائے، تاکہ بالغوں کے مواد کو محدود کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک ابتدائی تجویز ہے اور کسی بھی نئے نظام کو آزمائشی طور پر شروع کیا جا سکتا ہے، تاکہ اگر وہ آزادی ٔ اظہار پر غیر ضروری بوجھ ڈالے تو اس پر نظرثانی ہو سکے۔
بعض وکلا نے اس پر اظہارِ تشویش کیا کہ ضابطے سخت ہوئے تو کہیں اظہار رائے کی آزادی متاثر نہ ہو۔ عدالت نے کہا کہ وہ کسی کے ’منہ بند کرنے‘ کے حق میں نہیں، لیکن اگر موجودہ نظام مؤثر ہوتا تو ایسے واقعات پیش ہی نہ آتے۔
عدالت معذور افراد کی ایک تنظیم کی اس درخواست کی بھی سماعت کر رہی تھی، جس میں مزاحیہ فنکاروں سمے رائنا، وپن گوئل، بلراج گھئی، سونالی ٹھکر اور نشانت تنیوَر پر معذور افراد کے بارے میں نامناسب لطیفے بنانے کا الزام ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا معذور افراد کی تذلیل کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ جیسا سخت قانون ہونا چاہیے؟
انہوں نے کہا کہ ’’ایسا قانون بنائیں جس میں ان کی تضحیک پر سخت سزا ہو۔‘‘ سالیسٹر جنرل نے اتفاق کیا کہ مزاح کسی کی عزتِ نفس مجروح کرنے کی قیمت پر نہیں ہو سکتا۔
(ندائے مشرق ڈیسک )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔










