پرتھ، 22 نومبر( یو این آئی ) انگلینڈ کے کوچ برینڈن میکولم نے کہا ہے کہ پرتھ میں آسٹریلیا سے انگلینڈ کی کراری شکست کے بعد ٹیم کو زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی زیادہ ردعمل کی انہوں نے کہا کہ چیلنج صرف شکست سے سنبھلنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ نتیجہ ٹیم کے اعتماد یا سمت کو نقصان نہ پہنچائے۔
انگلینڈ نے میچ کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھا اور پہلی اننگ میں 40 رنز کی لیڈ بھی حاصل کی، لیکن اس کے بعد آسٹریلیا کی شاندار بولنگ نے ٹیم کو دباؤ میں ڈال دیا اور انگلینڈ 164 رنز پر آؤٹ ہوگیا۔ میکولم نے ٹریوس ہیڈ کی تعریف کی، جنہوں نے 69 گیندوں میں سنچری بنا کر 205 رنز کے ہدف کو آسان بنا دیا۔
میکولم نے کہا: "ہم زیادہ ردعمل دینے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے اعتماد اور ٹیم کے تعلقات کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔ پہلی اننگ میں ہمارے فاسٹ بولرز نے زبردست پرفارمنس دکھائی، یہ دیکھ کر پتہ چلا کہ ہم آسٹریلیا کو ہرا سکتے ہیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ ٹیم کو مخالف پر دباؤ ڈالنا جاری رکھنا چاہیے، لیکن سمجھداری کے ساتھ کہ کب تیز کھیلنا ہے اور کب نہیں۔ میکولم نے کہا کہ ہار کے باوجود کچھ اچھی باتیں بھی ہیں، خاص طور پر انگلینڈ کے فاسٹ بولرز کی شاندار ابتدائی کاکردگی۔
انگلینڈ نے میچ کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھا اور پہلی اننگ میں 40 رنز کی لیڈ بھی حاصل کی، لیکن اس کے بعد آسٹریلیا کی شاندار بولنگ نے ٹیم کو دباؤ میں ڈال دیا اور انگلینڈ 164 رنز پر آؤٹ ہوگیا۔ میکولم نے ٹریوس ہیڈ کی تعریف کی، جنہوں نے 69 گیندوں میں سنچری بنا کر 205 رنز کے ہدف کو آسان بنا دیا۔
میکولم نے کہا: "ہم زیادہ ردعمل دینے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے اعتماد اور ٹیم کے تعلقات کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔ پہلی اننگ میں ہمارے فاسٹ بولرز نے زبردست پرفارمنس دکھائی، یہ دیکھ کر پتہ چلا کہ ہم آسٹریلیا کو ہرا سکتے ہیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ ٹیم کو مخالف پر دباؤ ڈالنا جاری رکھنا چاہیے، لیکن سمجھداری کے ساتھ کہ کب تیز کھیلنا ہے اور کب نہیں۔ میکولم نے کہا کہ ہار کے باوجود کچھ اچھی باتیں بھی ہیں، خاص طور پر انگلینڈ کے فاسٹ بولرز کی شاندار ابتدائی کاکردگی۔
پرتھ، 22 نومبر( یو این آئی ) انگلینڈ کے کوچ برینڈن میکولم نے کہا ہے کہ پرتھ میں آسٹریلیا سے انگلینڈ کی کراری شکست کے بعد ٹیم کو زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی زیادہ ردعمل کی انہوں نے کہا کہ چیلنج صرف شکست سے سنبھلنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ نتیجہ ٹیم کے اعتماد یا سمت کو نقصان نہ پہنچائے۔
انگلینڈ نے میچ کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھا اور پہلی اننگ میں 40 رنز کی لیڈ بھی حاصل کی، لیکن اس کے بعد آسٹریلیا کی شاندار بولنگ نے ٹیم کو دباؤ میں ڈال دیا اور انگلینڈ 164 رنز پر آؤٹ ہوگیا۔ میکولم نے ٹریوس ہیڈ کی تعریف کی، جنہوں نے 69 گیندوں میں سنچری بنا کر 205 رنز کے ہدف کو آسان بنا دیا۔
میکولم نے کہا: "ہم زیادہ ردعمل دینے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے اعتماد اور ٹیم کے تعلقات کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔ پہلی اننگ میں ہمارے فاسٹ بولرز نے زبردست پرفارمنس دکھائی، یہ دیکھ کر پتہ چلا کہ ہم آسٹریلیا کو ہرا سکتے ہیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ ٹیم کو مخالف پر دباؤ ڈالنا جاری رکھنا چاہیے، لیکن سمجھداری کے ساتھ کہ کب تیز کھیلنا ہے اور کب نہیں۔ میکولم نے کہا کہ ہار کے باوجود کچھ اچھی باتیں بھی ہیں، خاص طور پر انگلینڈ کے فاسٹ بولرز کی شاندار ابتدائی کاکردگی۔
انگلینڈ نے میچ کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھا اور پہلی اننگ میں 40 رنز کی لیڈ بھی حاصل کی، لیکن اس کے بعد آسٹریلیا کی شاندار بولنگ نے ٹیم کو دباؤ میں ڈال دیا اور انگلینڈ 164 رنز پر آؤٹ ہوگیا۔ میکولم نے ٹریوس ہیڈ کی تعریف کی، جنہوں نے 69 گیندوں میں سنچری بنا کر 205 رنز کے ہدف کو آسان بنا دیا۔
میکولم نے کہا: "ہم زیادہ ردعمل دینے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے اعتماد اور ٹیم کے تعلقات کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے۔ پہلی اننگ میں ہمارے فاسٹ بولرز نے زبردست پرفارمنس دکھائی، یہ دیکھ کر پتہ چلا کہ ہم آسٹریلیا کو ہرا سکتے ہیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ ٹیم کو مخالف پر دباؤ ڈالنا جاری رکھنا چاہیے، لیکن سمجھداری کے ساتھ کہ کب تیز کھیلنا ہے اور کب نہیں۔ میکولم نے کہا کہ ہار کے باوجود کچھ اچھی باتیں بھی ہیں، خاص طور پر انگلینڈ کے فاسٹ بولرز کی شاندار ابتدائی کاکردگی۔








