واشنگٹن/۱۳نومبر//
بدھ کے روز امریکی قانون سازوں نے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق 20,000 سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں جن میں سے کچھ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ذکر ہے۔
ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے تین ای میل کے تبادلے شائع کیے ہیں جس میں ایپسٹین اور ان کی دیرینہ ساتھی گیلین میکسویل کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین پکڑے جانے کے بعد 2019 میں جیل میں مردہ پائے گئے تھے جبکہ گیلین میکسویل نوعمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے اور ان کی انسانی سمگنگ اور اس کی سہولت کاری کے الزامات میں 20 برس قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
اس کے علاوہ ایپسٹین اور مصنف مائیکل وولف کے درمیان ہونے والی ای میلز بھی جاری کی گئی ہیں۔ مائیکل وولف نے ٹرمپ کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی ہیں۔
ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے دستاویزات جاری کیے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ہاؤس ریپبلکنز نے اس کے جواب میں دستاویزات کی ایک بڑی تعداد جاری کی۔ ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ اراکین کا چنیدہ دستاویزات شائع کرنے کا مقصد ’صدر ٹرمپ کو بدنام کرنے کے لیے ایک جعلی بیانیہ تیار کرنے‘ کی کوشش ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ہاؤس ڈیموکریٹس نے ’صدر ٹرمپ کو بدنام کرنے کے لیے ایک جعلی بیانیہ تیار کرنے کے لیے لبرل میڈیا کو‘ چنیدہ ڈاکیومینٹس لیک کی ہیں۔
ٹرمپ اور ایپسٹین برسوں تک دوست تھے تاہم صدر کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کی پہلی مرتبہ گرفتاری سے دو سال قبل 2000 کی دہائی کے اوائل میں ان کی دوستی ختم ہو گئی تھی۔ ٹرمپ ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غلط کام کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے جاری کی جانے والی پہلی ای میل 2011 میں ایپسٹین اور میکسویل کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔
اس ای میل میں ایپسٹین نے میکسویل کو لکھا کہ آپ کو جو بات پتہ ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ جس شخص نے اب تک زبان نہیں کھولی ہے وہ ٹرمپ ہے۔
’متاثرہ شخص نے ان کے ساتھ میرے گھر پر گھنٹوں گزارے تھے۔‘
ایپسٹین مزید لکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے بارے ایک بار بھی کہیں تذکرہ نہیں ہوا ہے حتیٰ کہ پولیس چیف نے بھی نہیں کیا ہے۔
میکسویل اس کے جواب میں لکھتی ہیں کہ میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے جاری کی جانے والی ای میلز میں متاثرہ شخص کا نام چھپایا گیا ہے تاہم کمیٹی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ڈاکیومنٹس میں اس کا نام واضح ہے۔ متاثرہ شخص کا نام ’ورجینیا‘ ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ورجینیا جوفرے ہے جنھوں نے ایپسٹین پر الزامات لگائے تھے۔ ان کی رواں سال کے آغآز میں خودکشی سے موت ہوئی تھی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جوفرے نے ’بارہا کہا کہ صدر ٹرمپ کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں تھے۔‘
جوفرے نے 2016 میں ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ کو کبھی بھی کسی بدسلوکی میں شریک نہیں دیکھا۔ اور رواں سال بعد از مرگ جاری ہونے والی ایک یادداشت میں بھی انھوں نے صدر پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگایا۔










