بدھ, ستمبر 9, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

آوارہ کتوں کا بحران : اعداد و شمار سے آگے کی حقیقت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-30
in اداریہ, رائے
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

جموں و کشمیر اسمبلی میں پیش ہوئے تازہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ پچھلے تین برسوں کے دوران دو لاکھ سے زائد افراد کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوئے۔ ایک طرف یہ محض صحتِ عامہ کا مسئلہ دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ شہری منصوبہ بندی، بلدیاتی نظم و نسق، اور انتظامی جواب دہی کی مجموعی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۲ سے ۲۰۲۵ کے درمیان مجموعی طور پر ۲لاکھ۱۲ہزار۹۶۸واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جموں ڈویڑن سے۹۸ہزار۴۷۰؍ اور کشمیر ڈویڑن سے ایک لاکھ۱۴ہزار۴۹۸؍ واقعات سامنے آئے۔ جموں ضلع میں سب سے زیادہ۵۴ہزار۸۸۹واقعات درج ہوئے، جبکہ سری نگر شہر ۳۶ہزار۴۰۶ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ یہ اعداد محض تعداد نہیں، بلکہ شہری زندگی کے بگڑتے توازن کی گواہی ہیں۔
یہ سوال برسوں سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر شہر ترقی کے نام پر پھیل رہے ہیں تو ان کے ساتھ مربوط شہری انتظام کیوں نہیں بڑھا؟ سڑکوں کے کنارے پڑے کچرے کے ڈھیر، کھلے نالے، اور ناقص ویسٹ مینجمنٹ آوارہ کتوں کے لیے خوراک کا مستقل ذریعہ بن گئے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ یہ جانور انسانوں کے قریب رہنے کے عادی ہو گئے ہیں، اور جب خوراک یا جگہ کی قلت ہوتی ہے تو تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔
حکومت نے یقیناً آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کی مہم شروع کی ہے۔ ۲۰۲۳ سے اب تک تقریباً۴۸ہزار۹۹۸کتوں کو اس عمل سے گزارا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی تعداد لگتی ہے، مگر جب مسئلے کی جڑ لاکھوں کی سطح پر ہو، تو یہ کوشش ایک محدود دائرے سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
سری نگر میونسپل کارپوریشن نے۲۷ ہزار سے زائد کتوں کی نس بندی کی، جبکہ جموں میں تقریباً ۱۳ ہزار، مگر دونوں شہروں کے باہر بیشتر اضلاع میں نظام اب بھی ابتدائی سطح پر ہے۔ اے بی سی مراکز کے قیام کا منصوبہ ابھی کاغذی مرحلے میں ہے، اور کئی اضلاع میں زمین کی نشاندہی تک مکمل نہیں ہو پائی۔
سڑکوں پر چلتے عام شہری، اسکول جاتے بچے، یا صبح سویرے ناشتہ کی دوکانوں کے قریب موجود لوگ …ہر کوئی اس خوف سے آشنا ہے کہ کب کوئی کتا حملہ کر دے۔ اسپتالوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ محض جسمانی زخم نہیں بلکہ نفسیاتی اثرات بھی گہرے ہیں۔ بچوں میں اسکول جانے کا خوف، خواتین میں شام کے بعد باہر نکلنے سے ہچکچاہٹ، اور شہری فضا میں پھیلا غیر محسوس دباؤ… یہ سب اس مسئلے کی انسانی قیمت ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جب شہری اداروں کو محض کارروائی کے بیانات سے آگے بڑھ کر جواب دہی کی ضرورت ہے۔ حکومت کے اعداد و شمار تسلی بخش دکھائی دیتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اب بھی کچرے کے ڈھیروں اور کتوں کے غولوں میں نظر آتی ہے۔
سپریم کورٹ نے ستمبر ۲۰۲۵ میں ایک اہم ہدایت جاری کی، جس میں تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو یاد دلایا گیا کہ ’آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنا محض جانوروں کی فلاح کا نہیں، انسانی جان کی حفاظت کا بھی معاملہ ہے۔‘ عدالت نے کہا کہ انمل برتھ کنٹرول رولز ۲۰۲۳ کے مطابق ہر ریاست کو مؤثر پالیسی پر عمل درآمد کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔
عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے، ان کی ویکسینیشن، اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے اقدامات میں تاخیر کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلے نے بلدیاتی اداروں کے لیے ایک موقع بھی پیدا کیا ہے … وہ مرکز کی مالی معاونت کے ساتھ ایک مربوط’اربن انمل ویلفیئر پالیسی‘ تشکیل دے سکتے ہیں، جو صرف کتوں کی نہیں بلکہ پورے شہری ماحولیاتی نظام کی اصلاح کرے۔
مسئلے کا حل محض نس بندی مراکز بڑھانے سے نہیں نکلے گا۔ اس کے لیے تین سطحی حکمتِ عملی درکار ہے :شہری صفائی کا نظام بہتر بنانا تاکہ کتوں کے لیے کھلے فضلاتی مقامات ختم ہوں۔بلدیاتی اداروں، محکمہ صحت اور مقامی کمیونٹیوں کے درمیان اشتراک قائم ہو تاکہ بیداری اور احتیاطی تدابیر عام ہوں۔عدالتی ہدایات پر شفاف عمل درآمد … ہر ضلع سے پیش رفت رپورٹ عوامی سطح پر شائع کی جائے تاکہ شہریوں کو یقین ہو کہ ریاست ان کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ میڈیا اور سول سوسائٹی اس مسئلے کو جذباتی یا سطحی بحث سے نکال کر پالیسی کی زبان میں اٹھائیں۔ کتوں کے ساتھ ہمدردی اپنی جگہ درست ہے، لیکن انسانی جان کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
دو لاکھ سے زائد متاثرین کا مطلب ہے کہ ہر ضلع، ہر محلے میں کوئی نہ کوئی شخص یا بچہ اس تجربے سے گزرا ہے۔ یہ صرف ایک اعداد و شمار کی کہانی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی کوتاہی کا نوحہ ہے۔ سپریم کورٹ کی تنبیہ کو اگر انتظامیہ نے سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ بحران مزید گہرا ہوگا۔
حقیقی بہتری تب آئے گی جب حکومت، بلدیاتی ادارے، اور عوام … تینوں ایک دوسرے کی ذمہ داری قبول کریں۔ مسئلہ آوارہ کتوں کا ہو یا شہری نظم کا … کسی بھی بحران کا حل تبھی نکلتا ہے جب نیت، علم، اور عمل ایک سمت میں ہوں۔
۔۔۔۔۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

مفت بجلی:’شرطیں لاگو ہیں‘

Next Post

’جولائی سے اب تک۱۱ ہزار کلو گرام سے زائد خراب گوشت ضبط، ۱۴لائسنس معطل‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

2026-09-08
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جل جیون مشن:آخر مسئلہ کیا ہے ؟        

2026-09-05 - Updated on 2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

  احتجاج اور جوابی احتجاج کے بیچ پستا عام آدمی    

2026-09-03
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

انٹرنز کا وظیفہ: جائز مطالبہ، مگر مریض اولین ترجیح

2026-09-02
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر کی ازسرنو ترتیب

2026-09-01
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

ایک ہی دن کے دو اعلانات: لداخ کو۳۷۱، کشمیر کو۳۷۰ کی سیاست؟                

2026-08-30
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیر میںبی جے پی لیڈروں پر مقدمات                

2026-08-29
Next Post
منجمد گوشت کے کا ر بار کیلئے راہنما خطوط جاری

’جولائی سے اب تک۱۱ ہزار کلو گرام سے زائد خراب گوشت ضبط، ۱۴لائسنس معطل‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.