نئی دہلی، 19 ستمبر (یو این آئی) دہلی پولیس نے منشیات کے کاروبار کے خلاف اپنی زیرو ٹالرینس پالیسی نافذ کرتے ہوئے اسمگلروں کے مالیاتی نیٹ ورک پر بڑا حملہ کیا ہے ۔ پولیس کی اقتصادی جانچ نے کئی منشیات اسمگلروں کی کمر توڑ دی ہے ۔
سال 2025 میں اب تک 30 اسمگلروں کی تقریباً 21.5 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں، جبکہ 19 دیگر ملزمان کی تقریباً پانچ کروڑ روپے مالیت کی جائیدادوں کی جانچ جاری ہے ۔
اسپیشل کمشنر آف پولیس (کرائم برانچ) اور اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس (اے این ٹی ایف) کے سربراہ دیویش چندر شری واستو نے بتایا کہ منشیات اسمگلروں کی اصل طاقت ان کی کمائی ہوئی غیر قانونی رقم ہے ۔ یہ رقم ان کے مجرمانہ نیٹ ورک کو مضبوط کرتی ہے ، جائز کاروبار میں گھس کر معیشت کو غیر مستحکم کرتی ہے اور کئی بار دہشت گردی تک کی مالی مدد بھی کر سکتی ہے ۔ ایسے میں صرف منشیات اور اسمگلروں کو پکڑنا ہی کافی نہیں بلکہ ان کی اقتصادی جڑوں پر ضرب لگانا ضروری ہے ۔
نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹراپک مادہ ایکٹ (این ڈی پی ایس) کی شق 68 کے تحت پولیس ایجنسیوں کو اسمگلروں کی غیر قانونی جائیدادوں کی شناخت کر کے انہیں ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ پولیس کا ماننا ہے کہ جب مجرموں سے ان کی کمائی چھین لی جائے گی تو پورا نیٹ ورک خود بہ خود کمزور ہو جائے گا۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت اے این ٹی ایف نے دوہری منصوبہ بندی تیار کی ہے جس میں آپریشنل کارروائیوں کے ذریعے اسمگلروں کی گرفتاری، منشیات کی ضبطگیری اور فراہمی کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا شامل ہے ۔ اقتصادی جانچ میں رقم کی چھان بین، بینک کھاتوں اور جائیدادوں کا تجزیہ اور غیر قانونی جائیدادوں کی ضبطگی شامل ہے






