افغانستان کی عبوری حکومت نے امریکہ کی جانب سے افغانستان کی بگرام ایئر بیس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان نے اپنی سرزمین پر کبھی بیرونی افواج کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار ذاکر جلالی نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے اپنے بیان میں مزید کہا کہ دوحہ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کے دوران اس نوعیت کے کسی امکان کو یکسر مسترد کر دیا گیا تھا۔
ذاکر جلالی نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے افغانستان کے کسی بھی حصے میں فوجی موجودگی برقرار رکھے بغیر‘ افغانستان اور امریکہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی اقتصادی اور سیاسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔
افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے یہ بیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ بیان کے ردعمل میں آیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں موجود بگرام ایئر بیس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ کو چین کے نزدیک واقع اس فوجی اڈے کی ضرورت ہے۔
یہ بات جمعرات کو برطانیہ کے اپنے دو روزہ دورے کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کے ہمرار مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کی تھی۔
بین الاقوامی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ سے وابستہ صحافی نے پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ سے روس اور یوکرین کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات کی بابت سوال پوچھا تھا۔
اس سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بلواسطہ طور پر سابق بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’روس کی نظر میں اگر امریکی قیادت کی کوئی اہمیت ہوتی تو وہ ایسا (یوکرین پر حملہ) کبھی نہ کرتا۔‘ٹرمپ نے سابق امریکی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا ’بغیر کسی وجہ کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بہت شرمناک تھا اور ہم افغانستان سے طاقتور اور قابلِ عزت طریقے سے بھی نکل سکتے تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم بگرام ایئر بیس، جو دنیا کے بڑے فوجی اڈوں میں ایک ہے، کو واپس لینے جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ آپ کے لیے ایک چھوٹی سی بریکنگ نیوز ہو سکتی ہے۔ ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ انھیں (افغانستان) بھی ہماری ضرورت ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اس فوجی اڈے کو واپس لینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ (بگرام) چین کے جوہری ہتھیار بنانے کے مقام سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔‘
یاد رہے کہ افغانستان میں موجود بگرام فوجی اڈے کا شمار امریکہ کے دنیا بھر میں قائم بڑے فوجی اڈوں میں ہوتا تھا۔ سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے وقت امریکہ نے یہ اڈا خالی کر دیا تھا۔







