انٹرنیٹ خدمات بھی بحال‘پولیس کی فیک نیوز پھیلانے پر سخت کی تنبیہ
جموں/۱۵ستمبر
جموں کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں پیر کو تقریباً تین ہفتوں بعد تعلیمی اداروں میں دوبارہ درس و تدریس کا کام کاج شروع ہوا۔
۸ستمبر کو عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے معراج ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) کے تحت حراست میں لینے کے بعد ضلع میں پر تشدد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے ۔
انتظامیہ نے ضلع میں براڈبینڈ انٹرنیٹ سروس بھی بحال کر دی ہے اور بیشتر علاقوں میں بی این ایس ایس کی دفعہ۱۶۳کے تحت عائد پابندیاں ہٹا لی ہیں۔
ڈوڈہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سندیپ مہتا نے صحافیوں کو بتایا’’ضلع میں اب کوئی بڑی پابندی نہیں ہے ، البتہ وہ علاقے جہاں احتجاج کا مرکز تھا، جیسے کہ کہارہ اور چلی پنگل، وہاں احتیاطی طور پر بندشیں برقرار رکھی گئی ہیں تاکہ امن و امان متاثر نہ ہو‘‘۔
ایس ایس پی نے خبردار کیا کہ جو عناصر سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیوز یا جھوٹی خبریں شیئر کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مہتا نے نوجوانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا’’یہ قانونی ٹیم کا معاملہ ہے کہ وہ پی ایس اے کے تحت معراج ملک کی حراست کو عدالت میں چیلنج کرے ، عوام کو افواہوں اور شرپسند عناصر کے پروپیگنڈے کا حصہ نہیں بننا چاہیے ‘‘۔
ایس ایس پی نے جعلی خبروں، پرانی ویڈیوز، نفرت انگیز تقاریر، یا کسی بھی ایسے مواد کو شیئر کرنے سے پرہیز کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے جو مجرمانہ سرگرمیوں، خلل ڈالنے ، یا عوام میں بے چینی کو فروغ دینے کے باعث ہوں۔
ایس ایس پی نے واضح کیا کہ غیر تصدیق شدہ یا اشتعال انگیز مواد کو پھیلانا ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے انہوں نے ضلع مجسٹریٹ کی۳ستمبر۲۰۲۵کی ایک ابتدائی ہدایت کا بھی حوالہ دیا۔
بیان کے مطابق شہریوں سے کہا گیا کہ وہ معلومات کو شیئر کرنے یا آگے بھیجنے سے پہلے ان کی درستگی کی مکمل تصدیق کریں۔
لوگوں سے کہا گیا کہ وہ گمراہ کن یا اشتعال انگیز پوسٹس کا سامنا کرنے کی صورت میں مقامی پولیس اسٹیشنوں کو اس کے متعلق اطلاع دیں یا سرکاری مدد کا استعمال کریں۔
ڈوڈہ پولیس نے پورے ضلع میں امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور رہائشیوں سے غلط معلومات اور افواہوں کے خلاف لڑائی میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔
واضح رہے کہ جموں خطے کے دیگر اضلاع میں اسکول۸ستمبر سے کھل گئے تھے‘جو۲۶؍اگست سے ۶ستمبر تک ریکارڈ بارش، طغیانی اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث بند رہے تھے ۔ تاہم، ڈوڈہ میں احتجاج کے سبب تعلیمی ادارے مزید دو ہفتوں تک بند رکھے گئے تھے ۔










