وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حال ہی میں وادی کے قیمتی جانور ہانگل کے تحفظ اور اس کے مسکن کو بچانے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کی یہ بات صرف ایک جنگلی جانور کی بقا تک محدود نہیں بلکہ یہ دراصل وادی کشمیر کے ماحول، اس کی حیاتیاتی توازن اور تہذیبی ورثے سے جڑا ہوا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے۔
ہانگل، جسے کشمیر کا نایاب ہرن بھی کہا جاتا ہے، برصغیر کے ان چند مخصوص جانوروں میں شامل ہے جن کی شناخت عالمی سطح پر ایک خطے کے ساتھ جْڑی ہوئی ہے۔ کبھی یہ ہزاروں کی تعداد میں کشمیر کے جنگلات، چراگاہوں اور وادیوں میں آزادانہ گھوما کرتا تھا لیکن آج اس کی تعداد چند سو کے قریب سمٹ کر رہ گئی ہے۔
داچھی گام نیشنل پارک اس کی آخری محفوظ پناہ گاہ بن کر رہ گیا ہے۔ یہ جانور صرف خوبصورتی یا علامت کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ماہرین ماحولیات کے مطابق ہانگل ایک کلیدی نوع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہانگل کا وجود اپنے ارد گرد پورے ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ گھاس اور جھاڑیوں پر چرائی کر کے یہ زمین کو اس طرح سنبھالتا ہے کہ دوسرے پودوں اور جڑی بوٹیوں کو نشوونما کا موقع مل سکے۔ بیجوں کو ادھر اْدھر پھیلانے کے عمل میں بھی یہ مددگار ہے اور یوں یہ جنگلات کی قدرتی افزائش کا حصہ بنتا ہے۔ اگر ہانگل ختم ہو جائے تو یہ صرف ایک جانور کا نقصان نہیں ہو گا بلکہ اس کے ساتھ کئی پودے، پرندے اور چھوٹے جانور بھی متاثر ہوں گے جن کی زندگی اس پر بالواسطہ یا بلاواسطہ منحصر ہے۔ ماحولیاتی توازن کا بگڑ جانا وادی کے آبی وسائل اور زراعت کو بھی متاثر کرے گا۔
ہانگل کی تیزی سے کم ہوتی تعداد کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ مسکن کی تباہی ہے۔ انسانی آبادی کے پھیلاؤ، غیر قانونی تعمیرات، چراگاہوں پر دباؤ اور لکڑی کی بے تحاشا کٹائی نے داچھی گام اور اس کے اطراف کے قدرتی جنگلات کو سکڑ کر رکھ دیا ہے۔ دوسری بڑی وجہ پالتو مویشیوں کی چرائی ہے۔ بھیڑ اور بکریاں انہی چراگاہوں میں کھیتیاں چرتی ہیں جہاں ہانگل کو خوراک کی ضرورت ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہانگل کو مناسب خوراک نہیں ملتی اور اس کی افزائش متاثر ہوتی ہے۔ تیسری وجہ شکار اور غیر قانونی شکاری گروہ ہیں۔ اگرچہ قانوناً اس کا شکار ممنوع ہے لیکن ماضی میں شکار نے بھی اس کے وجود کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ آوارہ کتوں کے حملے بھی ان کے بچوں کے لئے جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
ہانگل وادی کشمیر کے لئے محض ایک جانور نہیں بلکہ ایک ثقافتی علامت ہے۔ صدیوں سے یہ کہانیاں، مقامی لوک گیت اور شعری تخیلات کا حصہ رہا ہے۔ سردیوں میں برف پوش پہاڑوں کے پس منظر میں اس کے شاندار سینگوں کا منظر ہمیشہ سے کشمیری تہذیب اور جمالیات کا حصہ رہا ہے۔ اس کا وجود ختم ہونا گویا کشمیر کے ایک تاریخی اور تہذیبی ورثے کا مٹ جانا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی حفاظت کو محض جنگلی حیات کی بقا کا معاملہ سمجھنا تنگ نظری ہو گی۔ یہ دراصل ایک تہذیبی، ماحولیاتی اور معاشرتی ورثے کو زندہ رکھنے کی جدوجہد ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا اس مسئلے پر فوری ایکشن لینے کا اعلان خوش آئند ہے۔ لیکن محض سرکاری نوٹیفکیشن سے ہانگل کی بقا ممکن نہیں۔ اس کیلئے حکومت، ماہرین ماحولیات اور مقامی آبادی کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔ محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کو چاہیے کہ داچھی کے ارد گرد چراگاہوں اور جنگلات میں انسانی مداخلت کو سختی سے روکے۔ مقامی بستیوں کے لوگوں کو متبادل روزگار فراہم کیا جائے تاکہ وہ لکڑی کی کٹائی یا چراگاہوں کے استحصال پر مجبور نہ ہوں۔ طلبہ اور نوجوان نسل میں آگاہی پھیلائی جائے کہ ہانگل ان کے اپنے مستقبل اور ماحول کی بقا کے لئے کتنا ضروری ہے۔
اگر ہانگل محفوظ رہتا ہے تو یہ وادی کے لئے ایک ماحولیاتی سرمایہ بھی ہے۔ دنیا بھر سے سیاح اور محققین داچھی گام کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس نایاب ہرن کو دیکھ سکیں۔ یوں ایک طرف سیاحت کو فروغ ملتا ہے، دوسری طرف عالمی سطح پر کشمیر کو ایک ماحولیاتی خطے کے طور پر پہچان ملتی ہے۔ ہانگل کے تحفظ سے جنگلات اور آبی وسائل بھی بچیں گے۔ داچھی گام سے نکلنے والے چشمے اور ندی نالے سرینگر شہر اور اطراف کے لئے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ ہیں۔ یوں ہانگل کا وجود براہِ راست انسانوں کی زندگی اور صحت سے جڑا ہوا ہے۔
ہانگل کا مسئلہ محض جنگلی حیات کا نہیں بلکہ یہ وادی کشمیر کی بقا اور تشخص کا مسئلہ ہے۔ عمر عبداللہ کی اپیل ایک یاد دہانی ہے کہ اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کئے تو یہ نایاب جانور صرف تصویروں اور کتابوں میں رہ جائے گا۔ ہانگل کو بچانا دراصل کشمیر کے ماحول، اس کی ثقافت اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کو بچانا ہے۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ مل کر اس قیمتی ورثے کو محفوظ بنائیں۔ کیونکہ جب ہانگل بچے گا تو وادی کا حسن اور اس کا ماحولیاتی توازن بھی سلامت رہے گا۔ اور اگر یہ ختم ہوا تو شاید ہم ایک ایسا زخم کھا جائیں جو صدیوں تک بھر نہ پائے۔
۔۔





