نئی دہلی، 05 ستمبر (یواین آئی) بی سی سی آئی نے انڈین کرکٹ ٹیم کی جرسی اسپانسرشپ کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اگلے تین سال میں بی سی سی آئی کو 400 کروڑ روپئے سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔ نئی بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ 16 ستمبر مقرر کی ہے۔
نئی قیمت کے مطابق، بورڈ دو طرفہ (بائی لیٹرل) سیریز کے لیے فی میچ 3.5 کروڑ روپے وصول کرے گا، جبکہ ملٹی لیٹرل (آئی سی سی، ایشیا کپ اور ٹرائی سیریز) ٹورنامنٹس کے لیے فی میچ 1.5 کروڑ روپے لے گا۔ اس سے پہلے یہ ریٹ بالترتیب 3.17 اور 1.12 کروڑ روپے تھے۔
کرک بز کی رپورٹ کے مطابق نئی شرحیں ایشیا کپ کے بعد نافذ ہوں گی۔ اس سے بی سی سی آئی کو 400 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی ہو سکتی ہے، حالانکہ حتمی رقم بولی کے نتائج پر منحصر ہوگی۔
بی سی سی آئی نے یہ فیصلہ ڈریم 11 کے جرسی اسپانسر سے ہٹنے کے بعد کیا ہے۔ حکومت کے آن لائن گیمنگ ایکٹ 2025 کے نافذ ہونے کے بعد بی سی سی آئی نے ڈریم 11 کا معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ اب بی سی سی آئی نے ٹیم انڈیا کی جرسی اسپانسرشپ کی شرحوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ یعنی کسی بھی کمپنی کو ٹیم انڈیا کی جرسی پر لوگو لگانے کے لیے پہلے سے زیادہ رقم ادا کرنی ہوگی۔ نئی شرحوں کے مطابق، دو طرفہ سیریز کے لیے فی میچ 3.5 کروڑ روپے اور ملٹی لیٹرل ٹورنامنٹس کے لیے فی میچ 1.5 کروڑ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب موجودہ اسپانسر ڈریم 11 معاہدے سے باہر ہو گیا ہے۔ حکومت کے نافذ کردہ "آن لائن گیمنگ پروموشن اینڈ ریگولیشن ایکٹ 025 کے بعد ڈریم 11 کو جرسی اسپانسرشپ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔
کرک بز کی رپورٹ کے مطابق پہلے دو طرفہ میچوں کے لیے 3.17 کروڑ روپے اور کثیرالممالک ٹورنامنٹس کے لیے 1.12 کروڑ روپے طے تھے۔ یعنی نئی شرحیں پرانی شرحوں سے کچھ زیادہ ہیں۔ اس تبدیلی سے بی سی سی آئی کو 400 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ آخری رقم بولی کے عمل پر منحصر ہوگی۔
نئی شرحیں آئندہ ایشیا کپ کے بعد لاگو ہوں گی۔ تاہم، ہندوستان کی ٹیم اس ایشیا کپ میں بغیر کسی جرسی اسپانسر کے کھیلے گی کیونکہ بی سی سی آئی نے نئی بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ 16 ستمبر مقرر کی ہے۔ بی سی سی آئی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بولی لگانے والی کوئی بھی کمپنی یا اس سے جڑا ادارہ آن لائن مانی گیمنگ، سٹہ بازی یا جوا کے کسی بھی طرح کے کاروبار سے وابستہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ایسے کاروبار میں سرمایہ کاری یا ملکیت ہونی چاہیے۔ آن لائن گیمنگ ایکٹ 2025 نافذ ہونے کے بعد ڈریم 11 نے اپنے حقیقی رقم سے جڑے گیمز بند کر دیے، اسی وجہ سے کمپنی نےہندوستانی کرکٹ ٹیم کی جرسی اسپانسرشپ سے بھی کنارہ کر لیا۔ اب بی سی سی آئی نئے اسپانسر کی تلاش میں ہے اور دیکھنا یہ ہوگا کہ کون سی کمپنی ان مہنگی شرحوں پر ٹیم انڈیا کی جرسی اسپانسر بنتی ہے۔






