چنئی، 20 اگست ( یو این آئی ) چوٹ اور بیماری سے صحت یاب اور فٹ ہونے کے بعد جموں و کشمیر کے تیز گیند باز عمران ملک جمعہ کو بڑودہ کے خلاف میدان میں اتریں گے۔عمران ملک 18 اگست سے شروع ہونے والے بوچی بابو ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ میں نہیں کھیلے تھے۔لیکن وہ 22 اگست سے دوسرے راؤنڈ میں بڑودہ کے خلاف جموں و کشمیر کی نمائندگی کریں گے۔ ملک کو آخری بار آئی پی ایل 2024 میں کھیلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ ملک ہیمسٹرنگ اور کولہے کی انجری سے صحت یاب ہونے کے بعد واپسی کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا،میں فٹ اور بہتر محسوس کر رہا ہوں، میں نے کافی عرصے سے کرکٹ نہیں کھیلی، سات آٹھ ماہ سے ان فٹ تھا، وہ ایک مشکل وقت تھا، لیکن اب واپس آ کر بہت اچھا م محسوس کررہا ہے۔ میں نے حال ہی میں رجسٹرڈ کیمپ میں کشمیر میں ریڈ بال کرکٹ اور ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے ہیں۔ ہم بوچی بابو ٹورنامنٹ کے لیے چنئی آئے تھے۔ اب میں جتنے زیادہ میچ کھیل سکتا ہوں، اتنا ہی بہتر ہے چوٹ بحالی کے دوران عمران ملک نے بی سی سی آئی سینٹر آف ایکسی لینس، بنگلورو میں تقریباً چھ ماہ گزارے اور اپنی ٹیم کے ساتھ کام کیا، جسے وہ اپنی فٹنس میں واپسی کا سہرا بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، نشانت بوردولوئی، اسٹرینتھ اور کنڈیشنگ کوچ میری مدد کر رہے تھے۔ تلسی رام یوراج، فزیو سر اور سریش راٹھور، فزیو سر اور وی وی ایس لکشمن سر نے مجھے وہ سب کچھ دیا جس کی مجھے ضرورت تھی۔ بی سی سی آئی کا شکریہ۔ چوٹ کسی بھی کھلاڑی کی زندگی کا حصہ ہوتی ہے۔ اس وقت میں نے خود کو ذہنی طور پرمضبوط رکھا ۔ اب میں پوری لے میں بولنگ کر سکتا ہوں، میں ایک اسپورٹس مین ہوں اور سوشل میڈیا پر توجہ نہیں دیتا۔ دراصل میں صرف اپنے جسم کو چوٹ سے بچانا چاہتا ہوں اور اچھی کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں، ہندوستان کے لیے کھیلنا میرا مقصد ہے، اس بوچی بابو ٹورنامنٹ کے بعد، مجھے لگتا ہے کہ میں رنجی ٹرافی میں بھی کھیلوں گا اور وہاں وکٹوں کے ساتھ واپسی کی امید کروں گا۔ انہوں نے کہا، جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن مسلسل میری مدد کر رہی ہے۔ وہ اچھے کیمپس کا انعقاد کر رہے ہیں۔ میں جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن مہم کے سربراہ متھن منہاس سے بات کرتا رہتا ہوں۔ میں ابھیشیک نائر، جموں اور کشمیر کے کیمپ کے سربراہ کرشنا شرما اور پی کرشنا کمار کے ساتھ بھی کام کر رہا ہوں۔ ابھیشیک یہاں دو ہفتے قبل چنئی میں تھے اور ان کے ساتھ کام کرنا اچھا لگا۔






