لندن// جیو ہاٹ اسٹار کے ماہرین انل کمبلے اور اسٹیو ہارمسن نے ’میچ سینٹر لائیو‘ پر تیسرے دن کے پہلے سیشن پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ہندووستان کی بلے بازی کی تعریف کی، لیکن ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا کہ رشبھ پنت کے آؤٹ ہونے سے انگلینڈ کو ایک اہم موقع ملا۔
سنیچر کو تیسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن پہلے سیشن کے بعد کمبلے نے رشبھ پنت کے بدقسمتی سے رن آؤٹ ہونے پر کہا:”مجھے لگتا ہے ابتدا میں پنت نے رن لینے کی کال دی، پھر ہچکچائے کہ رن ہے یا نہیں۔ پھر کے ایل راہل فوراً دوڑ پڑے۔ پنت کی ہچکچاہٹ نے ان کے ردِعمل میں تاخیر کی۔ اور پھر انہیں دوڑنا پڑا کیونکہ کے ایل نے پوری رفتار سے دوڑ لگا دی تھی۔ یہ بالکل غیر ضروری تھا، آپ اگلی تین گیندیں روک سکتے تھے، لنچ پر جا سکتے تھے اور پھر اننگز جاری رکھ سکتے تھے۔”
"دونوں ے شاندار شراکت داری کی، نہایت متوازن انداز میں۔ پہلا سیشن ہندووستان کے نام رہا۔ لیکن لنچ سے پہلے پنت کا آؤٹ ہونا انگلینڈ کے لیے حوصلہ افزا رہا، کیونکہ جوفرا آرچر نے صرف چار اوور ہی کرائے۔ اب وہ لنچ کے بعد واپس آئیں گے اور وکٹ لینے کی کوشش کریں گے۔ ہمیں انہیں موقع نہیں دینا چاہیے تھا، اور بدقسمتی سے پنت رن آؤٹ ہو گئے۔”
"یہ نگلینڈ کے لیے بہت بڑی ’لائف لائن‘ ہے۔ مجھے لگا انگلینڈ نے ابتدائی آدھے گھنٹے میں اچھی گیند بازی کی۔ کے ایل راہل نے خوبصورتی سے بیٹنگ کی۔ پنت کی بلے بازی بھی لاجواب تھی، لیکن پھر وہ آؤٹ ہو گئے۔ رن لینے کے فیصلے میں تھوڑی ہچکچاہٹ نے انگلینڈ کو بڑا موقع دے دیا۔”
اسٹیو ہارمسن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح رشبھ پنت کے آؤٹ ہونے سے انگلینڈ کو ایک نئی جان مل گئی۔انہوں نے کہا:”جب میں اس لمحے کو دیکھتا ہوں، تو سوچتا ہوں — واہ! یہ انگلینڈ کے لیے کتنی بڑی لائف لائن ہے۔ واقعی، ایک بہت بڑی لائف لائن۔ مجھے لگا کہ انگلینڈ نے ابتدائی آدھے گھنٹے میں زبردست گیندبازی کی۔کے ایل راہل نے اپنے فطری انداز میں بلے بازی کی۔ گیند ان کے بیٹ پر آ رہی تھی اور انہوں نے جو کچھ ملا، اسے خوبصورتی سے استعمال کیا۔ انہوں نے وکٹ کے بالکل سامنے کی جانب شاندار باؤنڈریز لگائیں۔









