واشنگٹن، 5 نومبر (یو این آئی) امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کا ذمہ دار ایران جنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہی تنازع ہماری شکست کی وجہ بنا۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔ وینس کے اس بیان سے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی اور ایران جنگ کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں۔
وینس نے انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے سیاسی اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ ہی وہ وجہ ہے جس کے باعث ان کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک رہنماؤں نے کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اور اس کی پالیسیوں کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے کہا کہ ان کی پارٹی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو قانون سازی کی خاردار باڑ میں الجھا دے گی، جس سے ان کے ایجنڈے کو کانگریس میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔
ایوان نمائندگان کی نگرانی سے متعلق کمیٹی کے آئندہ چیئرمین رابرٹ گارسیا نے تحقیقات کے لیے کئی معاملات کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں ٹرمپ خاندان سے وابستہ کاروبار، امیگریشن قوانین کا نفاذ، وائٹ ہاؤس میں مجوزہ بال روم کی تعمیر کے لیے کارپوریٹ عطیات اور جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کو سنبھالنے کا معاملہ شامل ہے۔
سی بی ایس نیوز کے تخمینوں کے مطابق 435 رکنی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو 251 سے 268 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سینیٹ میں وہ کم از کم 54 نشستیں حاصل کرچکے ہیں۔ اس طرح آئندہ سال نئی کانگریس کے اجلاس کے آغاز پر پارٹی کو دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل ہوجائے گا۔
ڈیموکریٹس نے ملک بھر میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ٹیکساس، کنساس، جنوبی کیرولینا، اوہائیو، آئیووا، شمالی کیرولینا اور مین میں ریپبلکن پارٹی کی سینیٹ نشستیں چھین لی ہیں۔ ٹیکساس، کنساس اور جنوبی کیرولینا میں کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔
یہ نتائج صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہیں۔ ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کو ڈیموکریٹس کی کامیابیوں کی ایک اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے، جبکہ 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کی سیاسی سمت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
انتخابی نتائج کے اثرات پارٹی کی قیادت پر بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے عملے کو بتایا ہے کہ وہ ریپبلکن پارٹی کے پارلیمانی رہنما کی حیثیت سے مزید مدت کے لیے انتخاب نہیں لڑیں گے۔ اس فیصلے سے ایوان میں پارٹی کی قیادت کے لیے مقابلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے، تاہم بعد میں صدر نے کہا کہ وہ انہیں عہدے سے ہٹانے پر غور نہیں کررہے۔










