ہانگ کانگ، 5 نومبر (یو این آئی) ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز کارکن جوشوا وونگ کو مزید 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ 2020 سے جیل میں ہیں۔
ہانگ کانگ کی ہائی کورٹ نے جمعرات کو شہر کے قومی سلامتی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ملی بھگت کرنے کے الزام میں وونگ کو قصوروار قرار دیا۔
یہ سزا ایسے وقت سنائی گئی ہے جب وونگ کو جنوری 2027 میں رہا ہونے کی توقع تھی، یعنی ان کی رہائی میں ابھی دو ماہ باقی تھے۔
ہائی کورٹ کے جج ولیم ٹام نے کھچا کھچ بھرے کمرہ عدالت میں سزا سناتے ہوئے کہا، سزا جرم کی سنگینی کے مطابق ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے غیر ملکی قوتوں یا بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر ملزم اور اس کے ساتھیوں کی سازش اور کارروائیوں پر معاشرے کی شدید ناپسندیدگی کا اظہار کرے۔
30 سالہ وونگ پر الزام تھا کہ انہوں نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے کارکن نیتھن لا اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر غیر ملکی ممالک، اداروں اور چین سے باہر موجود شخصیات سے اپیل کی تھی کہ وہ ہانگ کانگ حکومت کے خلاف پابندیاں عائد کریں، ناکہ بندی کریں یا دیگر مخالفانہ سرگرمیوں میں حصہ لیں۔
وونگ نے ستمبر میں اس الزام کا اعتراف کر لیا تھا۔ جج ٹام نے کہا کہ انہوں نے سزا کے لیے ابتدائی طور پر 13 سال قید پر غور کیا تھا، تاہم جرم قبول کرنے اور دیگر رعایتی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے کم کرکے 10 سال کر دیا۔
جوشوا وونگ کبھی ہانگ کانگ کی جمہوریت نواز تحریک کا نمایاں چہرہ تھے۔ انہیں 2020 میں ایک سال قبل ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں کردار ادا کرنے کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا۔
یہ مظاہرے چین کے مرکزی علاقے میں ملزمین کی حوالگی کی اجازت دینے کے منصوبے کے خلاف شروع ہوئے تھے، لیکن بعد میں ایک وسیع جمہوریت نواز تحریک میں تبدیل ہوگئے۔ وونگ اس تحریک کے نمایاں نمائندے بن کر ابھرے اور اکثر نیوز چینلوں پر نظر آتے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے حکومت مخالف غیر مجاز اجتماع پر اکسانے اور اس کا اہتمام کرنے کے الزامات بھی قبول کر لیے تھے۔
عدالت کے فیصلے پر جمعرات کو مختلف حکومتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی۔ہانگ کانگ میں امریکی قونصل خانے نے وونگ کو مزید قید کی سزا سنائے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
قونصل خانے کے ایک ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو دیے گئے بیان میں کہا، ”وونگ دسمبر 2020 سے ناحق قید ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بیجنگ ہانگ کانگ میں بنیادی آزادیوں کی وکالت کرنے والوں کی آواز دبانے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے۔”
وونگ کو سزا سنائے جانے کے بعد تائیوان نے بھی ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز کارکنوں کے خلاف ”مسلسل سیاسی انتقام” پر تنقید کی۔
تائیوان کے اعلیٰ ترین ادارے برائے چین پالیسی نے کہا کہ بیجنگ اور ہانگ کانگ کی حکومتیں ”آمرانہ طریقے” استعمال کرتے ہوئے الزامات گھڑ رہی ہیں، مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہیں اور آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے عوام کے جائز حقوق کو دبا رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی وونگ کے خلاف تازہ الزامات کی مذمت کی۔ تنظیم کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے کہا، ”جوشوا وونگ کے خلاف بے بنیاد الزامات پر سخت سزا ظالمانہ اور ناانصافی پر مبنی ہے۔ سماجی تبدیلی کے لیے آواز اٹھانے والے نوجوان کسی بھی متحرک معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں، لیکن ہانگ کانگ کی حکومت انہیں جیلوں میں ڈال رہی ہے۔”
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی وونگ کو مزید سزا سنائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی ایک اور تشویش ناک مثال ہے کہ ہانگ کانگ کا قومی سلامتی قانون اختلاف رائے کو سزا دینے کے ایک آلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔










