اتوار کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں اپوزیشن جماعتوں کی ریلی اور اس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں سامنے آنے والے سیاسی واقعات نے ایک بار پھر ہندوستانی جمہوریت کے بنیادی سوالات کو بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ ریلی میں شریک افراد کی تعداد پر اختلاف اپنی جگہ، مگر اس اجتماع نے انتخابی عمل، الیکشن کمیشن کے کردار اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے اپوزیشن کے خدشات کو نمایاں طور پر سامنے رکھا۔ اگلے روز سرینگر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کی قیادت کو مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان پائی جانے والی بداعتمادی کا ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ آج آغا روح اللہ نے اپنی جماعت سے استعفیٰ دینے اور لوک سبھا کی نشست چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس پر عوام سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کیا۔
یہ واقعات سیاسی اختلافات، جماعتی رقابتوں اور عوامی توقعات کے ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ہر جماعت اپنی بات سامنے رکھنا چاہتی ہے۔ جمہوریت کا اصل حسن بھی یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اسے سننے، سمجھنے اور اس کا جواب دینے کی گنجائش موجود ہو۔ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کے مؤقف سے اتفاق کرنا ضروری نہیں، لیکن اسے اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ یہی اصول جمہوری نظام کو محض اقتدار کی منتقلی کا طریقہ نہیں بلکہ عوامی شرکت اور جواب دہی کا نظام بناتا ہے۔
رام لیلا میدان کی ریلی میں اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انتخابی اداروں پر اعتماد کسی بھی جمہوریت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انتخابات صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں بلکہ عوام کے اس یقین کا نام ہیں کہ ان کی رائے منصفانہ طور پر شمار ہوگی اور اس کے نتیجے میں اقتدار تشکیل پائے گا۔ اگر انتخابی فہرستوں، ووٹوں کے اندراج یا اعتراضات کے طریقۂ کار کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں تو ان کا جواب شفافیت، وضاحت اور قابلِ اعتماد تحقیقات کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ ایسے سوالات کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں، اور نہ ہی ہر الزام کو تحقیق کے بغیر حقیقت تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ ذمہ دارانہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ شکایات کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو اور عوام کے اعتماد کو مضبوط کیا جائے۔
اسی طرح جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو بھی جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔ محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کی قیادت کے ماضی کے سیاسی فیصلوں اور کشمیر سے متعلق بدلتے ہوئے مؤقف پر تنقید کی۔ ان کے الزامات اپنی جگہ سیاسی مؤقف ہیں، جن کا جواب نیشنل کانفرنس اپنی وضاحت اور دلیل کے ذریعے دے سکتی ہے۔ لیکن اس بحث کا اہم پہلو یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے تصورات اور ترجیحات رکھ رہی ہیں۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان مؤقفوں کا موازنہ کریں اور اپنی رائے قائم کریں۔
آغا روح اللہ کا استعفیٰ بھی اسی سیاسی بحث کا ایک اہم واقعہ ہے۔ ان کا الزام ہے کہ نیشنل کانفرنس نے دفعہ ۳۷۰ کی بحالی کے لیے کوششوں سمیت عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ کسی منتخب نمائندے کا اپنی جماعت کی پالیسی سے اختلاف کرنا اور اس اختلاف کی بنیاد پر فیصلہ کرنا سیاسی جواب دہی کا حصہ ہے۔ تاہم ایسے معاملات میں عوامی مفاد، سیاسی اصول اور ذاتی یا جماعتی اختلافات کے درمیان فرق واضح رہنا چاہیے۔ سیاسی وعدوں کی تکمیل کا جائزہ عوامی بحث اور انتخابی عمل کے ذریعے ہی مؤثر طور پر لیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستانی جمہوریت خامیوں سے پاک نہیں۔ اداروں کی کارکردگی، سیاسی جماعتوں کے طرزِ عمل، انتخابی شفافیت اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ لیکن ان خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کا راستہ بھی جمہوری آزادیوں ہی سے نکلتا ہے۔ صحافت، عدلیہ، پارلیمان، سیاسی جماعتیں اور شہری سماج اس عمل میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اداروں اور حلقوں کو اپنا کام آزادانہ طور پر کرنے کی گنجائش ملنا جمہوریت کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
جموں و کشمیر کے عوام نے گزشتہ برسوں میں سیاسی اور آئینی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ مختلف نوعیت کے دباؤ اور بے یقینی کا سامنا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی مکالمے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر عوامی شکایات کو سننے، سیاسی اختلافات کو برداشت کرنے اور وعدوں کے بارے میں جواب طلب کرنے کا راستہ کھلا رہے تو اعتماد کی بحالی کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ طاقت یا پابندیوں کے ذریعے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن پائیدار اعتماد نہیں۔
جمہوریت کسی ایک جماعت، رہنما یا حکومت کی میراث نہیں۔ اسے قائم رکھنے اور مضبوط بنانے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ اختلافی آوازوں کو سنے، اداروں کی غیر جانب داری یقینی بنائے اور عوام کے سامنے جواب دہ رہے۔ اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ تنقید کو دلیل، حقائق اور عوامی مفاد سے جوڑے، اور محض سیاسی الزام تراشی تک محدود نہ رہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے وعدوں اور فیصلوں کا حساب عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
رام لیلا میدان کی ریلی ہو، محبوبہ مفتی کی تنقید ہو یا آغا روح اللہ کا اپنی جماعت سے اختلاف—یہ سب اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جمہوریت میں سیاسی بحث جاری رہنا ضروری ہے۔ اختلافات کو جمہوری دائرے میں جگہ ملے، ادارے سوالات کا جواب دیں اور عوام کو فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ ہندوستان کی جمہوری شناخت اسی آزادی، اسی تنوع اور اسی اختلافِ رائے سے تشکیل پاتی ہے۔ اس سفر کو جاری رکھنا صرف حکومت یا اپوزیشن کا نہیں، بلکہ ہر شہری اور ہر ادارے کا مشترکہ فرض ہے۔






