سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی علاقے کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل تباہ کردیا گیا ہے۔ اتحاد کے مطابق میزائل کو آج صبح کارروائی کے دوران تباہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی جانب بڑھنے والے اس خطرے کو ناکام بنا دیا گیا۔
سعودی اتحاد نے مزید بتایا کہ نجران اور مشرقی صوبے میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر جاری کی گئی وارننگ بھی واپس لے لی گئی ہے۔ خطرے کی وارننگ واپس لیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ حکام نے فوری خطرے کی صورت حال کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد الرٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے میزائل داغے جانے کا یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثیوں اور ان کے مخالف فریقوں کے درمیان کشیدگی اور خطے میں سلامتی کی صورت حال بدستور اہمیت کی حامل ہے۔ سعودی عرب ماضی میں بھی حوثی ملیشیا کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کا سامنا کرتا رہا ہے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد ان خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی اقدامات کرتا رہا ہے۔
بیلسٹک میزائل طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کی نشاندہی اور بروقت روک تھام فضائی دفاعی نظام کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، تازہ واقعے میں میزائل کو تباہ کرنے کے طریقۂ کار، اس کے ممکنہ ہدف اور کسی جانی یا مالی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
سعودی اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں میزائل حملے کے پس منظر، حوثی ملیشیا کے ممکنہ مقاصد یا واقعے کے بعد کسی اضافی دفاعی کارروائی کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔







