ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی اتحاد کے تحت آبنائے ہرمز اور یمن میں درپیش مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، جس کے دوران خطے کی تازہ صورتحال اور مختلف علاقائی و بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صدر اردوان نے امریکی ہم منصب کو ترکیہ کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
گفتگو کے دوران یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ صدر اردوان نے ٹرمپ کو بتایا کہ ترکیہ جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔
ترک صدر نے اس سلسلے میں سفارتی رابطوں کو دوبارہ فعال بنانے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کے لیے ترکیہ کے تعاون کی پیشکش کی۔ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بین الاقوامی سطح پر اہمیت رکھتی ہیں، جبکہ ترکیہ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے فروغ میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، جبکہ یمن کی صورتحال بھی مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ان علاقوں میں کشیدگی کے اثرات علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت پر مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر سفارتی کوششوں کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
ترک صدارتی دفتر کے بیان میں گفتگو کے دوران زیر بحث آنے والے امور کی تفصیلات فراہم کی گئیں، تاہم کسی نئے معاہدے، مشترکہ لائحہ عمل یا مذاکرات کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔






