سرینگر؍۲۴؍اکتوبر
جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سرکاری افسر کا روپ دھار کر زمین کے معاوضے کے معاملے میں ایک شخص اور اس کے بیٹے سے مبینہ طور پر۲۸ لاکھ روپے ہتھیانے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، پلوامہ پولیس نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) پلوامہ کی ہدایت پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات۳۹۱؍اور۳۳۶(۳) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
چیف جوڈیشل مجسٹریٹ مزمل احمد وانی نے جمعہ کے روز فراستہ بل، پامپور کے رہائشی محمد یوسف ٹھوکر اور ان کے بیٹے طارق احمد کی شکایت پر یہ حکم جاری کیا۔
شکایت کنندگان نے الزام لگایا کہ ہارون رشید باندھ، ساکن کچاچھ کوٹ، اونتی پورہ نے خود کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کمشنر (اے ڈی سی) پلوامہ ظاہر کیا اور اپنے مبینہ سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے رقم حاصل کی۔
شکایت کے مطابق، پلوامہ کے گڈورہ علاقے میں ٹھوکر کی زمین کا ایک حصہ قومی شاہراہ۴۴۴ کو چوڑا کرنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا، جس کے عوض انہیں معاوضہ ملنا تھا۔
شکایت کنندگان نے مزید الزام لگایا کہ زمین کے معاوضے اور جائیداد کے لین دین کے سلسلے میں ان سے تقریباً۲۸ لاکھ روپے حاصل کیے گئے۔
حکام کے مطابق، عدالت نے درخواست اور اس کے ساتھ پیش کیے گئے دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد مشاہدہ کیا کہ ابتدائی طور پر الزامات قابلِ دست اندازیِ پولیس جرائم کی نشاندہی کرتے ہیں، جن کی تحقیقات ضروری ہیں۔
عدالت نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










