سرینگر؍۲۳؍اکتوبر
واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور دیگر پیغام رسانی کی ایپس استعمال کرنے والوں کو حکومت کے مجوزہ سم بائنڈنگ ضوابط کے تحت یکم جنوری۲۰۲۷ سے اپنے فون میں رجسٹرڈ سم کارڈ فعال رکھنا پڑ سکتا ہے۔ اس اقدام کے تحت پیغام رسانی کی ایپس کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی خدمات صرف اسی وقت کام کریں جب اکاؤنٹ سے منسلک فعال سم کارڈ متعلقہ آلے میں موجود ہو۔
محکمہ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) نے پیغام رسانی کی ایپس کے لیے سم بائنڈنگ کی شرائط پر عمل درآمد کی آخری تاریخ۳۱ دسمبر۲۰۲۶مقرر کی ہے۔ ان ضوابط کا مقصد سائبر دھوکہ دہی پر قابو پانا اور بھارتی موبائل نمبروں کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
آئندہ سال سے صارفین اپنے پیغام رسانی کے اکاؤنٹس تک رسائی سے محروم ہوسکتے ہیں، اگر اکاؤنٹ سے منسلک سم کارڈ نکال دیا جائے، غیر فعال ہوجائے یا تبدیل کردیا جائے۔
مجوزہ ضوابط کے تحت بھارتی موبائل نمبروں کے ذریعے اندراج کی سہولت فراہم کرنے والی پیغام رسانی کی ایپس کو اس بات کی تصدیق کرنا ہوگی کہ رجسٹرڈ نمبر متعلقہ آلے میں موجود کسی فعال سم کارڈ یا ای سم سے منسلک ہے۔
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین اکاؤنٹ بنانے کے لیے استعمال ہونے والا سم کارڈ نکالنے کے بعد غیر معینہ مدت تک اس اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔
اگر رجسٹرڈ سم کارڈ نکال دیا جائے، تبدیل کردیا جائے یا غیر فعال ہوجائے تو ایپ کی خدمات معطل ہوسکتی ہیں، یہاں تک کہ اسی نمبر کو ایک درست سم کارڈ یا ای سم پروفائل کے ذریعے دوبارہ فعال نہ کردیا جائے۔
حکومت کا یہ فیصلہ سائبر جرائم، فشنگ کی کارروائیوں اور نام نہاد ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کے ذریعے ہونے والے دھوکہ دہی کے واقعات کے خلاف وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ محکمہ ٹیلی مواصلات کے مطابق دھوکہ باز بھارتی موبائل نمبروں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سم کارڈ خریدتے، پیغام رسانی کی ایپس پر اکاؤنٹ بناتے اور پھر بھارت سے باہر بیٹھ کر ان اکاؤنٹس کو چلاتے رہے ہیں۔
حکام کا خیال ہے کہ پیغام رسانی کے اکاؤنٹس اور فعال سم کارڈوں کے درمیان زیادہ مضبوط تعلق قائم کرنے سے سرحد پار دھوکہ دہی کے لیے بھارتی موبائل نمبروں کا غلط استعمال مشکل ہوجائے گا۔
حکومت نے ان ضوابط کو مزید سخت بنانے کی ایک اہم وجہ بھارتی صارفین کو سائبر دھوکہ دہی کے باعث ہونے والے بھاری مالی نقصانات کو بھی قرار دیا ہے۔
واٹس ایپ اور ٹیلی گرام ان پیغام رسانی کے پلیٹ فارموں میں شامل ہیں جن پر ان ضوابط کا اطلاق متوقع ہے، کیونکہ یہ صارفین کی شناخت اور اندراج کے لیے موبائل نمبروں پر انحصار کرتے ہیں۔تاہم، اطلاعات کے مطابق اسنیپ چیٹ پر سم بائنڈنگ کی پابندی لاگو ہونے کا امکان نہیں ہے۔
سگنل کے بارے میں صورت حال اب بھی واضح نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس معاملے کا جائزہ لیے جانے کے وقت تک اس پلیٹ فارم نے حکومتی مراسلت کا جواب نہیں دیا تھا۔
اب تک دستیاب معلومات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یکم جنوری۲۰۲۷ سے واٹس ایپ مخصوص آئی فون یا اینڈرائڈ ماڈلوں پر کام کرنا بند کردے گا۔ مجوزہ پابندیوں کا تعلق سم کارڈ کی تصدیق اور اکاؤنٹ کی توثیق سے ہے، نہ کہ کسی مخصوص آلے کے برانڈ یا عملیاتی نظام سے۔
ان تبدیلیوں کا سب سے زیادہ اثر ان صارفین پر پڑسکتا ہے جو رجسٹرڈ سم کارڈ کسی دوسرے فون میں رکھتے ہیں، لیکن واٹس ایپ کسی اور آلے پر استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح ان صارفین کو بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں جو اکاؤنٹ بنانے کے بعد سم کارڈ نکال دیتے ہیں یا بنیادی طور پر وائی فائی استعمال کرتے ہیں اور موبائل خدمات شاذ و نادر ہی استعمال کرتے ہیں۔
دو سم کارڈوں والے فون استعمال کرنے والوں کو بھی اس بات کو یقینی بنانا پڑسکتا ہے کہ ان کے پیغام رسانی کے اکاؤنٹ سے منسلک نمبر فعال رہے اور متعلقہ پلیٹ فارم کی شرائط پر پورا اترے۔
توقع ہے کہ یہ ضوابط عام سم کارڈوں کے ساتھ ساتھ ای سم پروفائلوں پر بھی لاگو ہوں گے۔ جب تک رجسٹرڈ موبائل نمبر آلے میں موجود کسی فعال ای سم سے منسلک ہے، صارفین کو صرف اس وجہ سے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کہ وہ عام سم کارڈ استعمال نہیں کرتے۔
سم بائنڈنگ ایک مجوزہ ضابطہ ہے جس کے تحت واٹس ایپ اور ٹیلی گرام جیسی پیغام رسانی کی ایپس کو فعال سم کارڈ سے منسلک رہنا ہوگا، تاکہ ان اکاؤنٹس کا تعلق ایک فعال اور اپنے صارف کی شناخت کی تصدیق شدہ موبائل سروس سے قائم رہے۔
آسان الفاظ میں، پیغام رسانی کا اکاؤنٹ ایک فعال، درست اور صارف کی شناخت کی تصدیق شدہ سم کارڈ سے منسلک رہنا ضروری ہوگا۔
اگر سم کارڈ نکال دیا جائے، غیر فعال ہوجائے یا مزید فعال نہ رہے تو مجوزہ ضابطے کے تحت پیغام رسانی کی سروس کام کرنا بند کرسکتی ہے۔
محکمہ ٹیلی مواصلات کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والے فراڈ، فشنگ کی کوششوں، نقالی پر مبنی کالوں اور دیگر سائبر جرائم کو روکنا ہے جو متعلقہ سم کارڈ کے استعمال میں نہ رہنے کے باوجود فعال رہتے ہیں۔
حکومت نے صنعت سے وابستہ اداروں کی درخواستوں کے بعد اس ضابطے پر عمل درآمد کی آخری تاریخ بڑھا کر۳۱دسمبر۲۰۲۶کردی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









