’میں ہر علاقے میں ترقی لانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں‘ آج بیروہ آنے کا میرا مقصد بھی یہی تھا ‘
سرینگر؍۲۳؍اکتوبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ ان کی حکومت جموں و کشمیر کے ہر علاقے میں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروہ کا دورہ کرنے کا مقصد حلقے میں ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانا ہے۔
دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’’میں ہر علاقے میں ترقی لانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ آج بیروہ آنے کا میرا مقصد بھی یہی تھا۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علاقے میں تقریباً۲۶ کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا گیا، جبکہ کئی دیگر منصوبوں کے سنگِ بنیاد بھی رکھے گئے۔
حلقے کے ساتھ اپنے تعلق کو یاد کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’۲۰۱۴ میں بیروہ کے ووٹروں نے مجھ پر احسان کیا تھا۔ میں نے یہاں کے لوگوں سے کہا تھا کہ میں زندگی بھر ان کا احسان مند رہوں گا۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نالہ سکھ ناگ پر پل کی تعمیر مکمل کرکے اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ یہ پل علاقے کے لوگوں کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ علاقے میں دریا کے کناروں کو خوب صورت بنانے کے منصوبوں پر بھی کام کیا جا رہا ہے، جن میں پیدل چلنے کے لیے راستہ اور بیٹھنے کے لیے مخصوص پلیٹ فارم شامل ہیں۔
بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک نئے رِسیونگ اسٹیشن کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ مرکز آئندہ چار سے پانچ ماہ میں کام کرنا شروع کردے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سردیوں کے دوران مقامی لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات دور کرنے کے لیے ٹرانسفارمروں کی مرمت کی ایک مقامی ورکشاپ بھی قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ان شاء اللہ، ہم اس ورکشاپ کو جلد از جلد مکمل کریں گے۔‘‘
مجوزہ شاہراہ کے راستے اور اس کے مقامی کاروبار پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے یہ معاملہ شاہراہ کے متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’لوگوں کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ معاملہ شاہراہ کے حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔ اب ہم یہاں کے لوگوں کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘
اسٹیڈیم کی تعمیر کے مطالبے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلے اس کے لیے ایک مناسب جگہ کی نشاندہی کی جائے گی، جس کے بعد محکمہ کھیل اس کی تعمیر اور ترقی کا کام اپنے ہاتھ میں لے گا۔
بعد ازاں جمعہ کی شام کووزیر اعلیٰ نے سیاحوں اور مقامی لوگوں کو سرینگر میں واقع گلِ داؤد باغ کی سیر کرنے اور یادگار لمحات اپنے ساتھ لے جانے کی دعوت دی۔ یہ باغ مسلسل دوسرے سال عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
باغ کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’’میں نہ صرف ملک بھر سے کشمیر آنے کے خواہش مند لوگوں کو دعوت دیتا ہوں بلکہ سرینگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے مقامی لوگوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ یہاں آئیں، باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں، تصاویر کھینچیں، یادگار لمحات گزاریں اور پھر واپس جائیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس باغ کو تیار کرنے کا مقصد سیاحتی موسم کے آغاز پر ایک ایسی منفرد کشش متعارف کرانا تھا جو سیاحوں کو کہیں اور دیکھنے کو نہ ملے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہماری کوشش رہی ہے کہ سیاحتی موسم کو فروغ دیا جائے۔ آپ نے کئی برسوں سے دیکھا ہوگا کہ موسم کے آغاز پر بڑی تعداد میں لوگ ٹیولپ گارڈن کا رخ کرتے ہیں۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا، ’’تاہم، اس موسم میں ہمارے پاس سیاحوں کو دکھانے کے لیے کوئی الگ یا خاص چیز موجود نہیں تھی۔ اسی لیے محکمہ پھول بانی نے اس گلِ داؤدی باغ کو تیار کیا۔‘‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس باغ نے نمایاں ترقی کی ہے اور اسے مزید بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’آنے والے وقت میں بھی ہم اسے اسی طرح ترقی دیتے رہیں گے۔ اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیں بار بار ملک کے باہر سے گانٹھیں درآمد کرنا پڑتی ہیں، جبکہ باغِ گلِ داؤدی کے لیے پودوں کا تمام مواد مقامی طور پر دستیاب ہے۔ ہم خود ان پودوں کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح ہماری کوشش ہوگی کہ ہر سال اس باغ میں کوئی نئی چیز متعارف کرائی جائے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)








