اقوام متحدہ؍۲۳؍اکتوبر
بھارت نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے یاد دلایا کہ اس نے۱۹۹۹ کی کرگل جنگ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کی لاشیں تک قبول نہیں کی تھیں، لیکن اب وہ مذہب، مذہبی آزادی اور تدفین کے حقوق کی بات کرتا ہے۔
مذہب یا عقیدے کی آزادی سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نازیلا غانیا کی عبوری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں سلامتی کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے جنازے اور تدفین کے حقوق سے منظم طور پر انکار کی اطلاعات، جن میں لاشیں اہل خانہ کے حوالے نہ کرنا اور دور دراز مقامات پر خفیہ تدفین شامل ہیں، سنگین تشویش کا باعث ہیں۔ یہ اقدامات مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتے ہیں اور ان کے مذہبی طریقوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔‘‘
اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مشن کی فرسٹ سیکریٹری‘ بھاویکا منگلانندن نے یہاں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی جانب واضح اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’یہ انتہائی افسوس ناک ستم ظریفی ہے کہ جس ملک نے۱۹۹۹ میں کرگل میں لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کی لاشیں تک قبول نہیں کیں، وہ آج بے باکی سے مذہب، مذہبی آزادی اور تدفین کے حقوق پر بڑے جوش و خروش سے بات کرتا ہے۔‘‘
کرگل جنگ کے دوران بھارتی فوج نے پاکستانی فوجیوں کی لاشیں برآمد کی تھیں اور انہیں دفن کیا تھا، کیونکہ پاکستان نے جنگ میں پاکستانی فوج کے اہلکاروں کی شمولیت تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
غیر معمولی حالات میں تدفین کے حقوق کے موضوع پر مذہب یا عقیدے کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندہ کے ساتھ تعاملی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے منگلانندن نے پاکستان کو یاد دلایا کہ بھارتی فوج نے متعدد پاکستانی فوجیوں کو فوجی اعزازات کے ساتھ اور اسلامی طریقوں کے مطابق دفن کیا تھا۔
منگلانندن نے کہا، ’’پاکستان کو جموں و کشمیر کے بھارتی مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں اپنی گہری دلچسپی دراصل جموں و کشمیر کے ان حصوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر مرکوز کرنی چاہیے جو اس کے غیر قانونی قبضے میں ہیں، مثلاً راولاکوٹ۔‘‘
فرسٹ سیکریٹری نے مزید کہا کہ پاکستان میں متعدد اقلیتی برادریوں کی آبادی سکڑ رہی ہے اور ان کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
منگلانندن نے کہا، ’’جو ملک اپنی اقلیتوں کی سلامتی یقینی نہیں بنا سکتا، اسے بھارت کو نصیحت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔‘‘
فرسٹ سیکریٹری نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کی تدفین کے حقوق کا دفاع کرتے ہوئے یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ ریاستیں دہشت گردوں کے جنازے اور تدفین کے حقوق پر پابندیاں عائد کرسکتی ہیں، لیکن یہ پابندیاں صرف قانونی حدود کے اندر ہونی چاہئیں۔
موصوفہ نے کہا، ’’قانونی حدود کا تعین خودمختار حقوق کے اصولوں کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ ایک دہشت گرد نہ صرف بے گناہ لوگوں کو قتل کرتا ہے بلکہ پوری قوم کی نفسیات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں دہشت گردوں کے حقوق کی بھرپور وکالت کی گئی ہے، حالانکہ وہ انسانوں کے سب سے مقدس حق، یعنی حقِ زندگی کی خلاف ورزی کرتے ہیں، لیکن دہشت گردی کے متاثرین کے حقوق کے لیے اسی نوعیت کی حمایت نظر نہیں آتی۔
منگلانندن نے کہا، ’’یہ رپورٹ میرے ملک کا حوالہ تلاش کرنے کے لیے نصف دہائی پیچھے چلی جاتی ہے، لیکن ہمارے خطے اور ترقی یافتہ دنیا میں حالیہ عرصے کے دوران ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں کے معاملے میں ناکام رہتی ہے۔‘‘
فرسٹ سیکریٹری نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق کوو۱۹کے دوران امتیازی سلوک اور غلط طرزِ عمل کے تمام واقعات گویا صرف عالمی جنوب میں پیش آئے۔
منگلا نندن نے سوال کیا، ’’ترقی یافتہ دنیا میں پیش آنے والے ایسے ہی المناک حالات کا ذکر نہ کرنے سے رپورٹ کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ لوگوں کے درد اور نقصان سے سیاسی فائدہ اٹھانا ایسا موضوع نہیں ہونا چاہیے جسے خصوصی نمائندے اپنی اہمیت ثابت کرنے کی بنیاد بنائیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









