سرینگر؍۲۱؍اکتوبر
جموں و کشمیر میں گزشتہ موسم سرما کے دوران پیدا ہونے والا کم وولٹیج کا بحران اس بار بھی لوٹ سکتا ہے، کیونکہ سردیوں میں بجلی کی طلب گزشتہ سال کی بلند ترین سطح کے برابر یا اس سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ پن بجلی کی پیداوار کم رہنے کی توقع ہے۔
شمالی علاقائی پاور کمیٹی (این آر پی سی) نے خبردار کیا ہے کہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنا ضروری ہے۔
کمیٹی کے مطابق گزشتہ موسم سرما میں صبح سویرے اور شام کے اوقات میں ہیٹنگ اور دیگر ضروریات کے باعث جموں و کشمیر کے کنٹرول ایریا میں بجلی کی طلب بڑھ کر تقریباً۳۲۰۰ میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی۔
این آر پی سی نے کہا کہ پن بجلی کی کم پیداوار اور بین الریاستی ترسیلی نظام (آئی ایس ٹی ایس) سے ری ایکٹیو پاور (ایم وی اے آر) کی زیادہ مقدار حاصل کرنے کے باعث وادی کشمیر کے کئی گرڈ اسٹیشنوں پر وولٹیج خطرناک حد تک کم ہوگیا تھا۔
کمیٹی کے مطابق۴۰۰کے وی کی بسوں پر وولٹیج کم ہوکر۳۴۷ کے وی اور۲۲۰کے وی کی بسوں پر۱۷۸ کے وی تک پہنچ گیا تھا۔ یہ سطحیں بھارتی بجلی گرڈ ضابطے (آئی ای جی سی) کے تحت مقررہ حدود، بالترتیب۳۸۰کے وی اور۱۹۸ کے وی، سے نمایاں طور پر کم تھیں۔
کمیٹی نے بتایا کہ وادی میں کم وولٹیج کا بار بار پیدا ہونے والا مسئلہ مختلف اجلاسوں میں زیرِ بحث آچکا ہے، جن میں حالیہ دنوں میں سرینگر میں منعقدہ تکنیکی رابطہ کمیٹی (ٹی سی سی) اور این آر پی سی کے اجلاس بھی شامل ہیں۔
این آر پی سی نے خبردار کیا کہ اس موسم سرما میں بجلی کی طلب گزشتہ سال کے برابر یا اس سے زیادہ رہنے اور پن بجلی کی پیداوار کم رہنے کا امکان ہے۔ کمیٹی کے مطابق اگر پیشگی اقدامات نہ کیے گئے تو گزشتہ سال جیسی صورت حال دوبارہ پیدا ہوسکتی ہے۔
این آر پی سی نے جموں و کشمیر اسٹیٹ لوڈ ڈسپیچ سینٹر (ایس ایل ڈی سی) سے کہا ہے کہ وہ موسم سرما کے لیے اپنی تیاریوں کا منصوبہ پیش کرے۔ اس میں وادی میں کیپیسٹر بینکوں اور ری ایکٹیو پاور کی تلافی کے دیگر نظاموں کی موجودہ صورت حال کی تفصیلات شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
منصوبے میں بین الریاستی ترسیلی نظام سے ری ایکٹیو پاور حاصل کرنے کی ضرورت کم کرنے کے اقدامات اور موسم سرما کے دوران پن بجلی کی متوقع پیداوار کے تخمینے بھی شامل ہونے چاہئیں۔
کمیٹی نے پاور گرڈ کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ نیو وانپوہ میں نصب اسٹیٹک وار کمپنسیٹر (ایس وی سی) کی دیکھ بھال کو ترجیح دی جائے۔ کمیٹی کے مطابق دسمبر سے فروری کے دوران مرمت کے لیے بجلی کی فراہمی بند کرنے کا انتظام کرنا مشکل ہوگا، اس لیے ضروری کام پہلے ہی مکمل کیے جائیں۔
پاور گرڈ اور انڈی گرڈ کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ جموں و کشمیر میں۴۰۰کے وی کی ترسیلی لائنوں کی دیکھ بھال نومبر کے اختتام سے پہلے مکمل کرلی جائے، تاکہ دسمبر سے مارچ تک یہ لائنیں دستیاب رہیں۔
این آر پی سی نے واضح کیا ہے کہ دسمبر سے مارچ کے دوران۴۰۰کے وی کی ترسیلی لائنوں کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کمیٹی نے گزشتہ موسم سرما میں جزوی بلیک آؤٹ کے بعد وادی کشمیر کے بجلی گرڈ کو بحال کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات کی بھی نشاندہی کی۔
این آر پی سی کے مطابق امرگڑھ کی جانب سنکرونائزنگ ٹرالی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے عمل میں رکاوٹ پیش آئی تھی۔
اس کے پیش نظر وادی میں کام کرنے والے تمام ترسیلی لائسنس یافتگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے گرڈ اسٹیشنوں پر سنکرونائزنگ ٹرالیوں کی دستیابی یقینی بنائیں، تاکہ بجلی کی فراہمی میں تعطل کے بعد اسے جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










