سرینگر؍۲۱؍اکتوبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں و کشمیر میں موسمِ سرما کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ سردیوں کے دوران عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا یقینی بنانے کے لیے باہمی تال میل کے ساتھ بروقت اور مؤثر انتظامات کیے جائیں۔
مختلف محکموں کے درمیان قریبی رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے برف ہٹانے کے لیے ایک مربوط نظام قائم کرنے کی ہدایت دی، خصوصاً ان سڑکوں کے حوالے سے جن کی دیکھ بھال مختلف محکمے اور ایجنسیاں کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں سے برف ہٹانے اور آمدورفت بحال کرنے کے لیے آر اینڈ بی، مکینیکل انجینئرنگ، سرینگر میونسپل کارپوریشن، شہری بلدیاتی اداروں، پی ایم جی ایس وائی اور دیگر محکموں کے درمیان ذمہ داریوں کا واضح تعین اور باہمی تال میل ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ مختلف سڑکوں کی دیکھ بھال کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان برف ہٹانے کی کارروائیوں میں رابطہ قائم رکھنے کے لیے نوڈل افسران نامزد کیے جائیں، تاکہ تمام کام منظم انداز میں انجام پائیں اور محض رابطے کی کمی کے باعث کوئی بھی سڑک برف ہٹانے کے بغیر نہ رہ جائے۔
عمرعبداللہ نے پیشگی منصوبہ بندی، افرادی قوت اور مشینری کی بروقت تعیناتی اور برف ہٹانے کی کارروائیوں کی مؤثر نگرانی کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے بالخصوص ان علاقوں پر توجہ دینے کی ہدایت دی جہاں شدید برفباری اور سڑکوں کی آمدورفت طویل عرصے تک معطل رہنے کا خدشہ ہے۔
بجلی کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے محکمہ پاور ڈیولپمنٹ اور بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت دی کہ بجلی کٹوتی کے جاری کردہ شیڈول پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ تکنیکی خرابیوں اور دیگر ہنگامی وجوہات کے باعث بعض اوقات مقررہ شیڈول سے ہٹ کر بھی بجلی بند کرنا ناگزیر ہوسکتا ہے، تاہم جہاں ممکن ہو، صارفین کو ایسی بندش کے بارے میں پہلے سے مطلع کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بروقت اطلاع دینے سے عوام کی مشکلات کم کرنے اور صارفین کو اپنے معمولات کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ تکنیکی خرابی یا کسی دوسری ناگزیر وجہ سے مقررہ شیڈول میں تبدیلی کی صورت میں صارفین کو مناسب ذرائع سے فوری طور پر مطلع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بجلی کی بندش کی وجہ یا اس کے دورانیے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔
عمرعبداللہ نے واضح کیا کہ فیلڈ میں تعینات عملے کو منظور شدہ بجلی کٹوتی کے شیڈول پر سختی سے عمل کرنا ہوگا اور انہیں اپنی صوابدید پر اضافی یا غیر مقررہ بجلی کٹوتی کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مقررہ شیڈول میں کسی بھی تبدیلی کی منظوری متعلقہ مجاز سطح پر حاصل کرنا ضروری ہے اور صارفین کو مطلع کرنے کے لیے طے شدہ طریقۂ کار پر مکمل عمل کیا جانا چاہیے۔
جوابدہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے بجلی کی فراہمی کے انتظامات کی مؤثر نگرانی کی ہدایت دی، تاکہ متعلقہ علاقوں میں جاری کردہ شیڈول یکساں طور پر نافذ کیا جاسکے۔
اجلاس کے دوران ڈویژنل کمشنر کشمیر انشل گرگ اور ڈویژنل کمشنر جموں وکاس کنڈل نے اپنے اپنے ڈویژنوں میں موسمِ سرما کی تیاریوں سے متعلق منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ان بریفنگز میں برف ہٹانے، برفباری سے متاثرہ علاقوں میں راشن، ایل پی جی اور دیگر ضروری اشیائے صرف کا ذخیرہ کرنے، بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی برقرار رکھنے اور شدید برفباری کے دوران طبی سہولیات کی دستیابی کے انتظامات شامل تھے۔
خصوصی طور پر ان علاقوں میں طبی سہولیات اور ہنگامی امداد کے نظام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا جو سردیوں میں اکثر باقی علاقوں سے کٹ جاتے ہیں۔
ان انتظامات میں ضرورت کے مطابق چار پہیوں والی گاڑیوں پر مشتمل ایمبولینسوں، ہیلی کاپٹر خدمات اور ایسے حساس علاقوں میں حاملہ خواتین کے کیسوں کی نگرانی شامل ہے جہاں طویل برفباری کے دوران انہیں ہنگامی طبی امداد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خطرات سے دوچار آبادیوں کی پیشگی نشاندہی کی جائے اور ایسے مناسب انتظامات کیے جائیں کہ خراب موسمی حالات کے باعث کوئی بھی مریض ہنگامی طبی سہولیات سے محروم نہ رہے۔
اجلاس میں گریز، مژھل اور کرناہ کے علاوہ پونچھ، راجوری، ادھم پور اور کٹھوعہ کے بعض علاقوں کے لیے خصوصی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا، کیونکہ ان علاقوں میں شدید برفباری اور سڑک رابطے منقطع ہونے کا زیادہ خدشہ رہتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ پیشگی منصوبہ بندی کے ذریعے ضروری اشیائے صرف، طبی خدمات، بجلی اور پینے کے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جائے، بالخصوص دور دراز اور برفباری سے متاثرہ علاقوں میں جہاں سردیوں کے دوران لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت مشکل ہوجاتی ہے۔
عمرعبداللہ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے اور موسمی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے متبادل انتظامات پہلے سے تیار رکھے جائیں۔
وزیر اعلیٰ نے فیلڈ میں کام کرنے والے اہلکاروں اور ضلعی حکام کے درمیان مؤثر رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ ابھرنے والے مسائل کو بلا تاخیر حل کیا جاسکے۔
۔۔۔۔(ڈی آئی پی آر)










