’ہریانہ مسافر بس حملے پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت کارروائی کرنے پر زور دیا ہے‘
سرینگر؍۱۹؍اکتوبر
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں وزراء کی کونسل میں توسیع لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی واپسی کے بعد عمل میں لائی جائے گی۔
ضلع بڈگام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا، ’’لیفٹیننٹ گورنر کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ بیمار تھے۔ جب لیفٹیننٹ گورنر واپس آئیں گے تو حکومت میں توسیع ہوگی۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی وزراء کی کونسل میں طویل عرصے سے زیرِ انتظار توسیع کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے۱۶؍ اکتوبر کو اقتدار میں اپنے دو سال مکمل کر لیے ہیں۔
اکتوبر۲۰۲۴ میں اقتدار سنبھالنے والی حکومت نے ابھی تک کابینہ میں ردوبدل نہیں کیا ہے اور مجوزہ توسیع سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
ہریانہ میں کشمیر کی دو مسافروں گاڑیوں پر پتھراؤ کے واقعات پر ڈاکٹر فاروق کاکہنا تھا ’’ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی کرنے پر زور دیا ہے اور حملے میں ہوئے نقصان کے ازالے کے لیے معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بعض شرپسند عناصر ملک میں امن و امان کو بگاڑنے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے حکام کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔
نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حال ہی میں حکومت کے اندر وزراء کے استعفوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کسی بھی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔
چودھری نے جموں میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، ’’کسی وزیر نے استعفیٰ پیش نہیں کیا ہے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کی انتخابی حلیف کانگریس بھی کابینہ میں توسیع سے متعلق بحث کا اہم حصہ رہی ہے۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس نے کانگریس کو کابینہ میں ایک وزارت دینے کی پیشکش کی تھی، تاہم کانگریس نے حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ پارٹی نے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال ہونے تک حکومت کو باہر سے حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل۷؍اکتوبر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ اپنے والد اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے ساتھ مشاورت کے بعد وزراء کی کونسل میں توسیع کے بارے میں جلد فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔
عمرعبداللہ کی مشکلات کے مرکز میں ایک سخت قانونی پابندی ہے۔ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں۹۰رکنی قانون ساز اسمبلی کے ارکان میں سے صرف۱۰ فیصد کو وزیر بنایا جا سکتا ہے، یعنی جموں و کشمیر تنظیمِ نو قانون۲۰۱۹کے تحت وزرا کی زیادہ سے زیادہ تعداد نو مقرر ہے۔ اس وقت وزیراعلیٰ سمیت نو میں سے چھ وزارتیں پُر ہیں۔ ایسے میں کابینہ میں بڑی توسیع کے لیے موجودہ وزرا میں سے بعض کو ہٹانا ناگزیر ہوگا۔
اس امکان نے نیشنل کانفرنس کے اندر بے چینی پیدا کر دی ہے اور پارٹی میں اثر و رسوخ کے حصول کے لیے نئی جوڑ توڑ شروع ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ پارٹی کے اندر وزارت کے کئی دعویدار موجود ہیں، جبکہ اتحادی جماعت کانگریس نے مزید دو وزارتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی اتحادی جماعتوں، بشمول سی پی آئی (ایم) اور آزاد ارکان کو بھی ساتھ رکھنے کا معاملہ درپیش ہے، جن کی حمایت اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کی عددی قوت برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔
نیشنل کانفرنس کے اندر کئی نوجوان ارکانِ اسمبلی وزارت میں موقع دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، جبکہ کئی دہائیوں سے سینئر رہنما وزارت کے عہدوں پر قابض رہے ہیں۔ پارٹی کے وفادار کارکنوں کو نظرانداز کیے جانے، علاقائی نمائندگی میں عدم توازن اور کارکنوں کو اہمیت نہ دیے جانے سے متعلق شکایات نے بھی عمر عبداللہ کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جموں سے شائع ہونے والے ایک روزنامے میں حال ہی میں شائع ہونے والی اس خبر کی نیشنل کانفرنس نے تردید نہیں کی کہ وزیراعلیٰ کابینہ میں ردوبدل کی تیاری کے سلسلے میں تمام وزرا سے استعفے حاصل کر چکے ہیں اور وہ بعض موجودہ وزرا کو ہٹا کر نئے چہروں کو موقع دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب کانگریس اپنی داخلی تضادات سے نبردآزما ہے۔ جموں و کشمیر میں پارٹی کی قیادت اس معاملے پر دو حصوں میں منقسم ہے کہ آیا اسے حکومت میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے عوامی طور پر واضح کیا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی تک کانگریس کابینہ میں شامل نہیں ہوگی۔ تاہم، پارٹی کے سینئر رہنما غلام احمد میر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا اصرار ہے کہ اتحاد کو برقرار رکھنے اور سیاسی طور پر مؤثر رہنے کے لیے حکومت میں شامل ہونا ضروری ہے۔ کانگریس نے اسے پیش کی گئی ایک وزارت کے بجائے دو وزارتوں کے علاوہ ایک اہم سرکاری کارپوریشن کی سربراہی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس معاملے میں حتمی فیصلہ نئی دہلی میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو کرنا ہے، جو اس وقت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کی احتجاجی مہم اور دیگر قومی معاملات میں مصروف ہے۔ اس تاخیر نے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور پارٹی کے اندر عہدوں کے حصول کی کشمکش مزید تیز ہو گئی ہے۔
طارق حمید قرہ اپنے ہی عوامی موقف کی وجہ سے وزارت میں شامل ہونے کے معاملے پر اخلاقی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ سینئر رہنما پیرزادہ محمد سعید کی گرتی ہوئی صحت انہیں ذمہ داریاں سنبھالنے سے روک رہی ہے۔ ایسے میں باقی تین ارکانِ اسمبلی، نظام الدین بھٹ، عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد، وزارت کے لیے اپنی نامزدگی پر غور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ غلام احمد میر، جو پہلے ہی پارٹی میں قومی سطح کا عہدہ رکھتے ہیں، کو وزارت کے لیے سب سے پہلے دعویدار نہیں ہونا چاہیے۔
۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)









