سرینگر؍۱۶؍اکتوبر
جموں و کشمیر میں سینئر آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن کی جانب سے ایک خاتون جے کے اے ایس افسر کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرنے کے معاملے کی سیاسی رہنماؤں نے شدید مذمت کی ہے۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے افسر کو جموں و کشمیر سے باہر بھیجنے پر زور دیا، جبکہ کانگریس نے منصفانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
جموں و کشمیر حکومت نے گاندربل میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (روزگار) بینش وانی کے ساتھ پیش آئے واقعے کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ سرکاری حکم نامے کے مطابق،۲۰۰۴ بیچ کی آئی اے ایس افسر اور محکمہ ہاؤسنگ و شہری ترقی کی کمشنر سکریٹری مندیپ کور کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں۱۵ دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سکریٹری کمار راجیو رنجن۱۴؍ اکتوبر کو مشن یووا سے متعلق ایک جائزہ اجلاس کے دوران بینیش وانی کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرنے کے بعد تنازعے میں آگئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس میں قومی دیہی روزگار مشن کے کردار پر تبادلہ خیال ہورہا تھا۔
اس تلخ کلامی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد سیاسی رہنماؤں اور جموں و کشمیر انتظامی خدمات (جے کے اے ایس) سے وابستہ افسران نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے خاتون افسر کی مبینہ توہین اور سرِعام تضحیک کی مذمت کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ افسر کا مبینہ طرزِ عمل کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر زور دیا کہ وہ یہ معاملہ مرکز کے ساتھ اٹھائیں اور سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔
محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’اس طرح کا غیر متوازن اور توہین آمیز رویہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ انہوں نے رنجن پر غیر قانونی اسلحہ لائسنس جاری کرنے سے متعلق عائد الزامات کا بھی حوالہ دیا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے رنجن کو جموں و کشمیر سے باہر بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جونیئر ساتھی کے ساتھ ان کی زبان ایک سرکاری افسر کے شایانِ شان نہیں تھی۔
فاروق عبداللہ نے کہا، ’’انہوں نے جو زبان استعمال کی، وہ بالکل غلط تھی۔ انہیں سرزنش کی جانی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کی ذمہ داری عوامی شکایات کا ازالہ کرنا ہے، نہ کہ لوگوں کی توہین یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر یہ واقعہ ان کے دورِ حکومت میں پیش آیا ہوتا، جب جموں و کشمیر ایک ریاست تھا، تو وہ افسر کو واپس بھیج دیتے، نہ کہ صرف تحقیقات مکمل ہونے تک محکمہ عمومی انتظامی کے ساتھ منسلک کرتے۔
فاروق عبداللہ نے اس واقعے کو آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی اور۲۰۱۹میں سابق ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیے جانے کے بعد انتظامی حیثیت میں آنے والی تبدیلیوں سے بھی جوڑا۔
دوسری جانب، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو خط لکھ کر واقعے کی منصفانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات کرانے کی اپیل کی۔
قرہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو نے ایک سینئر افسر کی جانب سے خاتون ساتھی کے ساتھ مبینہ طور پر استعمال کی گئی زبان اور ان کے خلاف کارروائی کی دھمکیوں سے متعلق سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔
انہوں نے جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) سے متعلق افسر کے مبینہ ریمارکس کی بھی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس آئینی ادارے کی ساکھ کا تحفظ ضروری ہے۔
کانگریس رہنما نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ واقعے کی مکمل ریکارڈنگ کا جائزہ لے اور تعین کرے کہ آیا سروس رولز یا ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو افسر کے عہدے سے قطع نظر مناسب کارروائی کی جانی چاہیے۔
قرہ نے یہ بھی زور دیا کہ بینیش وانی کو کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی یا ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق، خاتون افسر کی ملازمت سے متعلق فیصلے صرف میرٹ اور قواعد کے مطابق کیے جانے چاہئیں۔
ادھر، بھارتیہ جنتا پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ نے بھی جمعہ کو خاتون افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی مذمت کی۔ پارٹی نے کہا کہ بیوروکریٹس کو۲۰۱۹ کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کام کے نئے ماحول کے مطابق شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا چاہیے۔
بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اس طرزِ عمل کی سخت مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ ماتحت ملازمین کے خلاف غیر پارلیمانی زبان کا استعمال قابلِ مذمت ہے۔ جے کے اے ایس افسر کے ساتھ آئی اے ایس افسر کا اس طرح گستاخانہ انداز میں بات کرنا اور نامناسب الفاظ استعمال کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘
۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










