وزیر اعلیٰ کا چیف سیکریٹری کو خط‘ ہدایت دی کہ متعلقہ خاتون افسر کو کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے
سرینگر؍۱۶؍اکتوبر
جموں کشمیر حکومت نے سینئر آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن کی جے کے اے ایس افسر بینش وانی سے مبینہ بدسلوکی کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے میندیپ کور، آئی اے ایس، کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے۱۵ دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
محکمہ عمومی انتظامیہ کی جانب سے۱۶؍ اکتوبر کو جاری کردہ ایک حکمنامے کے مطابق، میندیپ کور‘جو محکمہ ہاؤسنگ و شہری ترقی کی کمشنر سیکریٹری ہیں، معاملے کی تحقیقات کریں گی۔
یہ انکوائری پرنٹ اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی ان اطلاعات کے بعد شروع کی گئی ہے جن میں محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سیکریٹری کمار راجیو رنجن، آئی اے ایس اور گاندربل میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر روزگار بینش وانی، جے کے اے ایس، کے درمیان مبینہ واقعے کا ذکر کیا گیا ہے۔
حکومت نے انکوائری افسر کو حکم جاری ہونے کی تاریخ سے۱۵ دن کے اندر تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ عمومی انتظامیہ کے ایڈیشنل سیکریٹری امیت ورمانی، جے کے اے ایس، کو اس معاملے میں پیش کار افسر مقرر کیا گیا ہے۔
حکمنامہ حکومت جموں و کشمیر کے حکم پر جاری کیا گیا ہے اور اس پر کمشنر سیکریٹری ایم راجو، آئی اے ایس، کے دستخط ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) ایسوسی ایشن کی عبوری کمیٹی نے۱۴؍ اکتوبر کو ایک سرکاری اجلاس کے دوران خاتون افسر کی مبینہ توہین کے خلاف ایک روزہ قلم چھوڑ ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
ایسوسی ایشن، جسے اے جے جے ایس کے اے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے اپنے اراکین کے نام جاری پیغام میں کہا کہ احتجاج کا مقصد انتظامی خدمات سے وابستہ افسران کی عزت، خودداری اور ادارہ جاتی وقار کا دفاع کرنا ہے۔
عبوری کمیٹی نے اراکین پر زور دیا کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون افسر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، کسی ایک افسر کے وقار پر مبینہ حملہ پوری انتظامی برادری کے لیے تشویش کا معاملہ ہے۔
یہ احتجاج۱۴؍اکتوبر کو سرینگر کے سول سیکریٹریٹ میں مشن یووا کے جائزہ اجلاس کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعے کے بعد کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، اجلاس میں ایک سینئر آئی اے ایس افسر نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر روزگار بینش وانی کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس کے بعد جے کے اے ایس افسران، ملازمین کی تنظیموں، سیاسی رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان تنویر صادق نے جمعہ کو کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خاتون جے کے اے ایس افسر کے ساتھ سینئر آئی اے ایس افسر کی مبینہ زبانی بدسلوکی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری کو خط لکھا ہے۔
زڈی بل کے رکن اسمبلی تنویر صادق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ متعلقہ خاتون افسر کو کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صادق نے مزید کہا کہ جواب دہی یقینی بنانا ضروری ہے اور کسی کو بھی اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دوسروں کو خوف زدہ کرنے یا انہیں نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
یہ معاملہ اس مبینہ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جس میں کمار راجیو رنجن کو۱۴ اکتوبر کو سول سیکریٹریٹ سرینگر میں مشن یووا کے جائزہ اجلاس کے دوران بینش وانی کے ساتھ مبینہ طور پر بدزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے بعد انتظامی افسران اور ملازمین کی تنظیموں نے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سیاسی رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









