سرینگر؍۱۶ اکتوبر
جموں و کشمیر حکومت نے تمام افسران اور ملازمین کو سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پیشہ ورانہ آداب، شائستگی اور باہمی احترام برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے توہین آمیز، دھمکی آمیز یا نامناسب زبان کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔
یہ ہدایات محکمہ عمومی انتظامی (جی اے ڈی) کی جانب سےآج اکتوبر کو جاری کردہ ایک سرکلر کے ذریعے جاری کی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر گورنمنٹ ایمپلائز (کنڈکٹ) رولز‘۱۹۷۱کے ضابطہ۳؍اور ملازمت سے متعلق دیگر قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے کہا ہے کہ تمام ملازمین سے دیانت داری، فرائض کے تئیں لگن، نظم و ضبط اور سرکاری ملازمین کے شایانِ شان طرزِ عمل کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ افسران، ساتھی ملازمین، ماتحت عملے اور عوام کے ساتھ بات چیت کے دوران پیشہ ورانہ طرزِ عمل، شائستگی اور باہمی احترام کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری امور سے متعلق بات چیت میں مناسب شائستگی، ضبط، وقار اور باہمی احترام کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ تمام سطحوں کے ملازمین کو ان اصولوں کی پابندی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ ہدایات اعلیٰ افسران اور ماتحت عملے، مختلف عہدوں پر فائز افسران اور ماتحت ملازمین و ان کے سینئرز کے درمیان تمام سرکاری روابط پر یکساں طور پر لاگو ہوں گی۔
حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سینئر عہدے اور نگرانی کے اختیارات ذمہ داری اور انصاف کے ساتھ استعمال کیے جائیں، جبکہ تمام ملازمین قانونی ہدایات، طے شدہ طریقۂ کار اور اپنے عہدوں سے وابستہ ذمہ داریوں کا احترام کریں۔
حکام کو خصوصی طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ توہین آمیز، دھمکی آمیز یا کسی بھی دوسری نامناسب زبان کے استعمال سے گریز کریں اور ایسا کوئی طرزِ عمل اختیار نہ کریں جو سرکاری عہدے کے وقار کے منافی ہو۔
تمام انتظامی سکریٹریوں، ڈویژنل کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں، محکموں کے سربراہوں اور منیجنگ ڈائریکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان احکامات سے اپنے ماتحت ملازمین کو آگاہ کریں اور ہر سطح پر ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
یہ سرکلر ایک خاتون جے کے اے ایس افسر بینش وانی کے ساتھ ایک سرکاری اجلاس کے دوران سینئر آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن کی جانب سے مبینہ زبانی بدسلوکی کے معاملے پر سامنے آیا ہے، جس کے خلاف بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا تھا۔
جموں و کشمیر حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جبکہ قومی کمیشن برائے خواتین نے بھی ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(مشرق خبر)










