وزارت دفاع نے ہندوستانی فضائیہ کے لیے جی سیٹ-7 سی کمیونیکیشن سیٹلائٹ اورہندوستانی بحریہ کے لیے ورون استر بھاری ٹارپیڈو خریدنے کے لیے کل 4,106 کروڑ روپے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں سے تینوں افواج میں دیسی دفاعی ٹیکنالوجی اور ملک میں دفاعی سامان بنانے کی صلاحیت کو فروغ ملے گا۔
وزارت دفاع نے جمعرات کے روز یہاں ان معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس دوران محکمہ دفاع کے ایڈیشنل سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل (ایکوزیشن) اے امباراسو موجود تھے۔
فضائیہ کے لیے جی سیٹ-7 سی سیٹلائٹ کی خریداری کے لیے بنگلورو کی نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ کے ساتھ 2,563 کروڑ روپے کا معاہدہ ہوا ہے۔ ملک میں ڈیزائن اور تیار کیے گئے اس سیٹلائٹ کی تعمیر بھی ہندوستان میں ہی کی گئی ہے۔ اس سے فضائیہ کے مختلف وسائل کے درمیان محفوظ، مضبوط اور بغیر کسی رکاوٹ کے مواصلاتی نظام میں بہتری آئے گی۔ اس سے فضائیہ کی آپریشنل صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔
بحریہ کے لیے ورون استر بھاری ٹارپیڈو کی خریداری کے لیے حیدرآباد کی بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ کے ساتھ 1,543 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ورون استر ملک میں تیار کردہ آبدوز شکن ٹارپیڈو ہے، جسے جہاز سے داغا جا سکتا ہے۔ اسے بحریہ کی نیول سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لیبارٹری نے تیار کیا ہے۔ اس میں سمت بدلنے کی زبردست صلاحیت ہے اور یہ طویل فاصلے پر دشمن کی آبدوزوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس سے بحریہ کی آبدوز مخالف جنگی صلاحیت مضبوط ہوگی۔
وزارت دفاع کے مطابق، یہ دونوں معاہدے دفاعی سامان کی دیسی پیداوار اور اہم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں خود کفالت بڑھانے کی سمت میں اہم قدم ہیں۔ یہ حکومت کے آتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا کے ہدف کے عین مطابق ہیں۔








