نئی دہلی، 15 اکتوبر (یو این آئی) ہندوستان نے امریکہ کی الینوائے ریاست کے اورورا علاقے میں ہندوؤں کے ایک مندر کو نشانہ بنا کر گولی باری کرنے کی مبینہ سازش پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سازش میں ہندوؤں اور نسلی بنیاد پر نفرت سے جڑے اشاروں کے ساتھ ہندوستانی نژاد لوگوں کے خلاف تشدد کی باتیں سامنے آنا خصوصی طور پر تشویشناک ہے۔
وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان رندھیر جیسوال نے اس معاملے میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں جمعرات کو کہا کہ ہندوستان نے امریکی قانون نافذ کرنے والے حکام کی کارروائی کا نوٹس لیا ہے۔ اس میں مشتبہ شخص کی گرفتاری اور اسے حراست میں لیا جانا نیز اس کے خلاف الزامات عائد کیا جانا شامل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ امریکہ میں نسلی کارروائی اور ہندوستان مخالف نفرت کو لے کر بڑھتی ہوئی تشویش کو مزید سنگین بناتا ہے۔ انہوں نے نفرت سے پُر تشدد کو بالکل برداشت نہ کرنے، زیادہ چوکسی برتنے اور ہندوستانی کمیونٹی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی حکام معاملے کی پوری جانچ کریں گے، ذمہ دار لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے اور اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ الینوائے کے شکاگو کے مضافاتی علاقے میں پولیس نے ایک بڑے ہندو مندر کو نشانہ بنا کر گولی باری کرنے کی بھیانک سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں خود کو ‘سفید فام قوم پرست’ بتانے والے 19 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے، جس کی رائفل آخری وقت میں جام ہو جانے کی وجہ سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔









