نئی دہلی؍۱۴؍اکتوبر
سپریم کورٹ نے بدھ کے روز کرناٹک کے اسمبلی حلقہ سرنگیری میں۲۰۲۳ کے ووٹوں کی گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ کا سراغ لگانے میں ناکامی سے متعلق الیکشن کمیشن آف انڈیا کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر کمیشن دستیاب ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا تو اس کے خلاف منفی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔
جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا پر مشتمل بنچ نے الیکشن کمیشن سے کہا، ’’الیکشن کمیشن آف انڈیا یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس کا ریکارڈ گم ہو گیا ہے؟ آپ کا بنیادی مقصد انتخابات کرانا ہے اور اس کے لیے دستاویزات کا ہونا ضروری ہے۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ ریکارڈ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ آپ نے یہ ریکارڈ منتخب امیدوار کو فراہم کیا تھا۔ ریکارڈ کی تحویل کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ کے پاس جو کچھ بھی موجود ہے، اسے اگلی سماعت پر پیش کریں۔ بصورت دیگر ہمیں آپ کے خلاف منفی نتیجہ اخذ کرنا پڑے گا۔ ہم اس طرح کے لنگڑے بہانے قبول نہیں کریں گے۔‘‘
عدالت کانگریس رہنما ٹی ڈی راجے گوڑا کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جنہیں حلقے میں ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔۲۰۲۳ کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں انہوں نے بی جے پی امیدوار ڈی این جیوراج کو محض۲۰۱ ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔
بنچ نے اصل گنتی کی ویڈیو تلاش کرنے میں ناکامی پر الیکشن کمیشن کی سرزنش کی۔ راجے گوڑا نے انتخابی مبصر کی رپورٹ اور۲۰۲۳ میں ہونے والی اصل گنتی کے علاوہ رواں سال مئی میں کی گئی دوبارہ گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ تک رسائی کی درخواست کی تھی۔
جب عدالت نے الیکشن کمیشن کو متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دینے کی تجویز دی تو کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سیشادری نائیڈو نے کہا کہ اصل گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔ تاہم، بنچ اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئی اور کمیشن کو ہدایت دی کہ اگلی سماعت تک دستیاب تمام ریکارڈ پیش کیا جائے۔
عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت۱۵فروری۲۰۲۷کو مقرر کی ہے۔
گنتی کی ویڈیو کا غائب ہونا اس لیے اہمیت رکھتا ہے کہ تنازعہ ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی جانچ اور اس کارروائی کی قانونی حیثیت سے متعلق ہے جس کے نتیجے میں راجے گوڑا کی انتخابی کامیابی ختم ہو گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے مئی میں الیکشن کمیشن کو کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم پر ہونے والی دوبارہ گنتی سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی اور مزید جانچ تک ریٹرننگ افسر کی جانب سے اٹھائے گئے تمام متعلقہ اقدامات پر عمل درآمد روک دیا تھا۔
یہ تنازعہ جیوراج کی جانب سے کرناٹک ہائی کورٹ میں دائر انتخابی عرضی سے شروع ہوا تھا، جس میں انہوں نے راجے گوڑا کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔۶؍ اپریل۲۰۲۶ کو ہائی کورٹ نے ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا، جس میں اصل گنتی کے دوران مسترد کیے گئے۲۷۹ووٹوں کی دوبارہ تصدیق بھی شامل تھی۔
تاہم، راجے گوڑا نے بعد میں سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریٹرننگ افسر نے ہائی کورٹ کی ہدایات سے تجاوز کیا اور ان ڈاک ووٹوں کی بھی دوبارہ جانچ کی جو پہلے ہی درست قرار دیے جا چکے تھے۔
۱۱ مئی کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ ریٹرننگ افسر نے مسترد کیے گئے۲۷۹ ڈاک ووٹوں کی دوبارہ تصدیق کے علاوہ۱۲۵۱دیگر ڈاک ووٹوں کی بھی دوبارہ جانچ کی، جنہیں پہلے درست قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ کارروائی بظاہر ہائی کورٹ کی ہدایات سے آگے بڑھ گئی تھی اور ریٹرننگ افسر کی جانب سے اس کے نتیجے میں اٹھائے گئے اقدامات بادی النظر میں قانونی بنیاد سے محروم تھے۔
مئی کے اوائل میں مکمل ہونے والی دوبارہ گنتی کے نتیجے میں راجے گوڑا کے حق میں پہلے شمار کیے گئے۲۵۵ووٹ منسوخ کر دیے گئے، جبکہ جیوراج کے ووٹوں میں دو کا اضافہ ہوا۔ نظرثانی شدہ گنتی کے مطابق بی جے پی امیدوار کو۵۲ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی اور اصل انتخابی نتیجہ تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد جیوراج کو کامیاب امیدوار قرار دے دیا گیا۔
سپریم کورٹ کی مئی میں مداخلت کے بعد راجے گوڑا کو رکن اسمبلی کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی، جبکہ عدالت نے دوبارہ گنتی کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیتے ہوئے اس کارروائی کے نتیجے میں اٹھائے گئے تمام اقدامات پر عمل درآمد روکنے کی ہدایت دی۔
راجے گوڑا نے ہائی کورٹ کی جانب سے دوبارہ گنتی کا حکم دیے جانے کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ان کے خلاف بدعنوان طرزِ عمل کے الزامات پر ہائی کورٹ کے نتائج دوبارہ گنتی کا حکم دینے کے لیے کافی نہیں تھے۔
اس تنازعے کے نتیجے میں دوبارہ گنتی کے دوران ڈاک ووٹوں میں مبینہ ردوبدل کے الزام میں ایک فوجداری مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ جیوراج نے الزامات کی تردید کی ہے اور کرناٹک ہائی کورٹ سے عبوری حکم حاصل کیا ہے، جس کے تحت مقدمے میں مزید تفتیش پر روک لگا دی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









