ایران کے جنوب مشرقی علاقے زاہدان کے قریب سکیورٹی آپریشن کے دوران تین افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی اسلامی جمہوریہ کی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی حکام نے منگل کو یہ اطلاع دی۔
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے زاہدان کے قریب چاہ احمد۔کورین علاقے میں دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پتہ لگا کر اسے تباہ کر دیا۔ ایجنسی نے بتایا کہ اس کارروائی میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں اور آپریشن اب بھی جاری ہے۔ اس کے مطابق، علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کی کارروائی ختم ہونے کے بعد ہلاکتوں کی حتمی تعداد کا اعلان کیا جائے گا۔
تسنیم نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت مسلح گروپ جیش العدل کے ارکان کے طور پر کی ہے۔ یہ بلوچوں کا ایک مسلح گروپ ہے جس نے سکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں۔ تاہم، ایجنسی نے ہلاک ہونے والوں کے نام یا ان کے اس گروپ سے تعلق کے ثبوت فراہم نہیں کیے۔ ایرانی فورسز کو ہونے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
ادھر تفتان میں شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
صوبہ سیستان و بلوچستان کے واقعات کی رپورٹنگ کرنے والے آزاد انسانی حقوق کے ادارے اور نیوز پورٹل ‘حالوش نے بتایا کہ تفتان کاؤنٹی میں چاہ احمد اور ارزاں تک کے آس پاس واقع لوپ علاقے میں زبردست جھڑپیں ہوئیں۔ حالوش کے مطابق، ان جھڑپوں میں انقلابی گارڈز کے ارکان شامل تھے۔
مقامی ذرائع کے حوالے سے پورٹل نے بتایا کہ لڑائی منگل کی صبح تقریباً چھ بجے شروع ہوئی، جس کے دوران ہلکے، درمیانے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔ علاقے میں اضافی فوجی دستے بھی بھیجے گئے ہیں۔
تاہم، اس تصادم میں شامل مسلح افراد کی شناخت، جھڑپوں کی وجہ اور کسی جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔






