سرینگر؍۱۳؍اکتوبر
وزارتِ خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور چین کی جانب سے اس حقیقت سے انکار اسے تبدیل نہیں کر سکتا۔
وزارت نے زور دے کر کہا، ’’یہ بات ایک بار پھر دہرائی جاتی ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔ چینی فریق کی جانب سے کسی بھی قسم کا انکار اس مسلمہ حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔‘‘
بھارت کی جانب سے شناخت کیے گئے دیگر مقامات میں علیشہ گری، جو ایک بلند پہاڑی چوٹی ہے، برانگسا، چپچنگل درہ، کنشک چوٹی، کرن پیر پہاڑ، ککسل، مارتنڈ گری، پارپک گلیشیئر، سکامری گلیشیئر، شچمیرک درہ، شکورگا وادی، زورآور چوٹی، دیہرا کمپاس اور درک کارپو شامل ہیں۔
اس فہرست میں جولموری، کمارایانہ پوائنٹ، پانگ لونگ، رنچن زانگپو، ساکیاسری گری، گرو رنپوچے، شمال لنگپا، جو۱۹۵۰کی دہائی میں گشت اور عارضی قیام کے راستے کے طور پر استعمال ہوتا تھا، یانگپا دریا، مارپا لوتساوا ری، میلاریپا کانگری، شیو ری اور مہیشورا ری بھی شامل ہیں۔
نئی دہلی کی جانب سے اپنے جغرافیائی ریکارڈ کو مزید مستحکم کرنے کے اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے منگل کو دی گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی علاقے پر دعویٰ کیا اور بھارت کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔
دی گلوبل ٹائمز کے مطابق ماؤ ننگ نے کہا، ’’چین نے بھارت کی جانب سے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے نام نہاد ’مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ‘ کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور بھارت کی جانب سے نام نہاد معیاری ناموں کے اعلان کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ یہ اقدام غیر قانونی اور غیر مؤثر ہے اور اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا کہ چین بھارت سرحد کے مغربی حصے میں متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کا حصہ رہے ہیں۔‘‘
ان۲۸؍اہم مقامات کے معیاری نام مقرر کرکے انہیں سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشے میں شامل کرنے کے ذریعے بھارت نے انتظامی وضاحت اور علاقائی شفافیت کو مزید مستحکم کیا ہے، جس سے چین کے دعوؤں کا اثر کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










