نیویارک، 8 اکتوبر (یو این آئی) ہندوستان نے جمعرات کو پاکستان پر دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت اور انہیں پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک کمیٹی سے کہا کہ اسلام آباد کا خود کو دہشت گردی کا شکار ملک قرار دینا دراصل عسکریت پسند نیٹ ورکس کی پرورش میں اس کے اپنے کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مشن کے فرسٹ سکریٹری رگھو پوری نے یہ بیان جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی میں بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات پر بحث کے دوران پاکستان کے نمائندے کے بیان کے جواب میں ہندوستان کے حقِ جواب کا استعمال کرتے ہوئے دیا۔
مسٹر پوری نے کہا،اصل سوال یہ ہے کہ جب دہشت گردوں کو کسی ملک کی سرزمین سے مالی مدد، سہولت، تربیت، پناہ یا حمایت فراہم کی جاتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ دہشت گردی کو محض بیانات سے شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس کے لیے دہشت گردوں، منصوبہ سازوں، مالی معاونت کرنے والوں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خود کو دہشت گردی کے خلاف صفِ اول کی ریاست اور متاثرہ ملک کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن اس سے یہ حقیقت چھپ جاتی ہے کہ اس کے پیدا کیے ہوئے اور بعد میں اس کے قابو سے باہر ہوجانے والے فرینکن اسٹائن اب پڑوسی ممالک میں تباہی مچانے کے بعد اپنے ہی ملک میں بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔
مسٹر پوری نے کہا، پاکستان کے اپنے رہنماؤں نے اس حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ آپ خرگوشوں کے ساتھ دوڑ بھی نہیں سکتے اور شکاری کتوں کے ساتھ شکار بھی نہیں کرسکتے۔
انہوں نے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل جیش محمد (جے ای ایم) کے سربراہ مسعود اظہر کے سر کی قیمت بڑھانے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اسے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل مسعود اظہر، جیش محمد کے سربراہ اور ہندوستان پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ کے لیے زیادہ انعام کا اعلان محض دھوکہ ہے۔ دہشت گردی کے لیے پاکستان کی مالی معاونت سب کو معلوم ہے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستانی نمائندوں نے صرف چند ماہ قبل جیش محمد کو ”ختم شدہ” تنظیم قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا، ”اگر میڈیا مسعود اظہر تک پہنچ سکتا ہے اور آپریشن سندور پر اس سے تصدیق حاصل کرسکتا ہے تو پاکستانی ریاست کو یقیناً اس کے ٹھکانے کا علم ہوگا۔”
مسٹر پوری نے کہا، ”جب دہشت گرد گروپ ریاستی سیاسی سرپرستی میں کام کرتے ہیں تو بین الاقوامی وعدے بے معنی ہوجاتے ہیں اور متاثرین کو انصاف سے محروم کردیا جاتا ہے۔”
انہوں نے ماضی کے دہشت گرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”دنیا 9/11 اور یہ نہیں بھولی کہ اسامہ بن لادن کہاں پایا گیا تھا۔ نہ ہی 26/11 کو بھولی ہے اور نہ پہلگام کو۔ بہت سے خاندان اب بھی انصاف اور اطمینان سے محروم ہیں جبکہ حملوں کے ذمہ دار آزاد گھوم رہے ہیں۔”
پہلگام حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”پہلگام کے متاثرین سے ان کی سیاست نہیں بلکہ ان کا مذہب پوچھا گیا تھا۔ یہ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ پاکستان مذہبی منافرت کے خلاف کارروائی کی بات کرتا ہے جبکہ سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔”
مسٹر پوری نے اسلام آباد پر آپریشن سندور کے بارے میں اپنی فوج کے مؤقف کو آگے بڑھانے کا بھی الزام عائد کیا۔ آپریشن سندور پاکستان کے خلاف بھارت کی فوجی کارروائی کا نام ہے۔
انہوں نے کہا، ”پاکستان آپریشن سندور کے بارے میں اپنی فوج کے بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے بے چین ہے اور بیانیہ سازی، غلط معلومات اور گمراہ کن اطلاعات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ بمباری سے تباہ شدہ فضائی اڈوں اور گڑھوں سے بھری رن ویز کی فتح کا جشن منانے کے لیے آزاد ہیں۔”
پاکستان مسلسل دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی عسکریت پسندانہ تشدد سے بھاری نقصان اٹھا چکا






