جموں و کشمیر میں تعمیراتی اجازت ناموں کے حصول کو آسان، شفاف اور وقت کا پابند بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے۱۸ زمروں کے عدم اعتراض سرٹیفکیٹس (این او سیز) کے اجرا کے لیے۲۱ دن کی مدت مقرر کرنا ایک اہم اور قابلِ ستائش اقدام ہے۔
عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے جموں و کشمیر پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ۲۰۱۱کے تحت مختلف سرکاری محکموں کو پابند کیا ہے کہ وہ عمارتوں کی تعمیر سے متعلق ضروری این او سیز مقررہ مدت میں جاری کریں۔
اس فیصلے کا بنیادی مقصد انتظامی تاخیر کو ختم کرنا، سرکاری اہلکاروں کی جواب دہی یقینی بنانا اور عام شہریوں کو غیر ضروری دفتری چکروں سے نجات دلانا ہے۔ تاہم، اس فیصلے کی اصل اہمیت نوٹیفکیشن جاری کرنے میں نہیں، بلکہ اس پر مؤثر عمل درآمد میں پوشیدہ ہے۔
تعمیراتی اجازت ناموں کا حصول جموں و کشمیر میں ایک عرصے سے عام لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ مکان تعمیر کرنا یا موجودہ عمارت میں ضروری توسیع کرنا کسی بھی خاندان کی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہے، لیکن جب اس مقصد کے لیے مختلف محکموں کے دفاتر کے چکر لگانے پڑیں، فائلیں مہینوں تک زیر التوا رہیں اور ہر مرحلے پر نئی رکاوٹ سامنے آئے تو ایک جائز کام بھی مشکل بن جاتا ہے۔ خاص طور پر وادی کشمیر میں تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے موسم کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر کسی شہری کو اجازت نامہ حاصل کرنے میں کئی ماہ لگ جائیں تو تعمیر کے لیے موزوں موسم گزر جاتا ہے اور اسے اگلے موسم تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایک طرف شہریوں کو تاخیر کی شکایت ہے، جبکہ دوسری طرف متعلقہ حکام مختلف محکموں سے منظوری حاصل کرنے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت نے عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے آن لائن نظام متعارف کرایا ہے تو پھر شہریوں کو اپنی فائلوں کی پیش رفت جاننے کے لیے ذاتی طور پر دفاتر کیوں جانا پڑتا ہے؟ اگر ڈیجیٹل نظام کا مقصد دفتری پیچیدگیوں کو کم کرنا ہے تو اس کے ذریعے درخواست کی وصولی سے لے کر حتمی منظوری تک ہر مرحلے کی معلومات شہری کو دستیاب ہونی چاہئیں۔
این او سیز کے حصول کو عوامی سطح پر اکثر رشوت اور بدعنوانی کے الزامات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ شہریوں کی شکایات یہ رہی ہیں کہ بعض سرکاری اہلکار جائز درخواستوں کو آگے بڑھانے کے لیے غیر قانونی مالی مطالبات کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں فائلوں کو طویل عرصے تک زیر التوا رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ ہر تاخیر کو بدعنوانی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، لیکن جب ایک سادہ سرکاری منظوری کے لیے لوگوں کو بار بار دفاتر کے چکر لگانے پڑیں اور انہیں اپنی درخواست کی پیش رفت کے بارے میں واضح جواب نہ ملے تو شکوک و شبہات جنم لینا فطری ہے۔ یہی وہ ماحول ہے جسے بدلنے کے لیے مقررہ مدت، شفاف طریقۂ کار اور جواب دہی کا مؤثر نظام ضروری ہے۔
حکومت کے تازہ فیصلے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے صرف۲۱ دن کی مدت مقرر نہیں کی، بلکہ مختلف محکموں کے لیے نامزد افسران اور پہلی و دوسری اپیل کے مجاز حکام کی بھی نشاندہی کی ہے۔ محکمہ مال، جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیات، آلودگی کنٹرول، کوآپریٹو، راحت و بازآبادکاری، جل شکتی، بجلی، ثقافت، تعمیراتِ عامہ اور مکانات و شہری ترقی سمیت متعدد محکمے اس نظام کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس طرح درخواست گزار کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی درخواست نمٹانے کا ذمہ دار کون ہے اور تاخیر کی صورت میں وہ کس فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔ اگر اس نظام کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تو سرکاری اہلکاروں کے لیے بلاجواز تاخیر کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
تاہم، اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض افراد تعمیراتی قوانین اور منظور شدہ نقشوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی عمارتیں کھڑی کرتے ہیں۔ ایسی تعمیرات نہ صرف منصوبہ بندی کے اصولوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ شہری نظم و نسق، ماحولیات اور عوامی مفادات کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ بعض معاملات میں غیر قانونی تعمیرات کو جاری رکھنے یا بعد میں قانونی شکل دلانے کے لیے رشوت اور غیر رسمی طریقوں کے استعمال کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جس میں قانون کی پابندی کرنے والا شہری بھی غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرتا ہے، جبکہ قانون توڑنے والا شخص مبینہ طور پر ناجائز ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
اس لیے حکومت کو دو محاذوں پر بیک وقت کام کرنا ہوگا۔ ایک طرف جائز تعمیراتی درخواستوں کی بروقت منظوری یقینی بنائی جائے اور دوسری طرف غیر قانونی تعمیرات، غلط معلومات اور ضابطوں کی خلاف ورزیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔۲۱ دن کی مدت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ضروری جانچ پڑتال کو نظر انداز کر دیا جائے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تمام قانونی تقاضے مقررہ وقت میں پورے کیے جائیں اور کسی افسر کو غیر معینہ مدت تک فائل روکنے کی اجازت نہ ہو۔
اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آن لائن نظام کو محض درخواستیں جمع کرنے کے ایک ذریعے کے بجائے مکمل نگرانی اور جواب دہی کا مؤثر نظام بنایا جائے۔ ہر درخواست کو ایک منفرد شناختی نمبر دیا جائے، شہری کو اس کی پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے اور اگر کسی دستاویز کی کمی ہو تو اس کی اطلاع واضح طور پر دی جائے۔ مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ افسر سے جواب طلب کیا جائے اور اپیل کے نظام کو بھی فعال بنایا جائے۔ حکومت کو وقتاً فوقتاً یہ تفصیلات بھی عوام کے سامنے رکھنی چاہییں کہ کتنی درخواستیں موصول ہوئیں، کتنی مقررہ مدت میں نمٹائی گئیں اور کتنی درخواستیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کی شکایات کے لیے قابلِ اعتماد طریقۂ کار ہونا چاہیے تاکہ شہری انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر اپنی شکایات درج کرا سکیں۔ افسران کی کارکردگی کا جائزہ صرف فائلوں کی تعداد کی بنیاد پر نہیں، بلکہ فیصلوں کے معیار، قانونی تقاضوں کی پابندی اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولت کے اعتبار سے بھی لیا جانا چاہیے۔
حکومت کا یہ فیصلہ یقیناً ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی کا تعین نوٹیفکیشن یا سرکاری بیانات سے نہیں ہوگا۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب شہریوں کو۲۱ دن کے اندر اپنے جائز تعمیراتی اجازت نامے ملیں، انہیں رشوت کے مطالبات یا غیر ضروری دفتری چکروں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی یکساں کارروائی ہو۔
عوام کو محض وعدوں اور اعلانات سے نہیں، بلکہ عملی سہولت سے سروکار ہے۔ اگر حکومت اپنے فیصلے کو کاغذوں سے نکال کر زمینی سطح پر نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف تعمیراتی اجازت ناموں کے نظام میں بہتری لائے گا بلکہ سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔۲۱ دن کی مقررہ مدت کو ایک انتظامی حکم کے بجائے عوامی حق کی ضمانت بنانا ہی اس فیصلے کی حقیقی کامیابی ہوگی۔



