جموں؍۷؍ اکتوبر
جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے پاکستان میں چھپے ہونے کا شبہ رکھنے والے دہشت گردی کے ایک مطلوب ملزم نذیر حسین کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی درخواست پر اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
پونچھ ضلع کے ہری گاؤں کا رہائشی نذیر حسین سرحدی ضلع میں دہشت گردی کی سازش سے متعلق ایک مقدمے میں مطلوب ہے۔ یہ مقدمہ اکتوبر۲۰۲۴ میں سرنکوٹ علاقے میں ایک اوور گراؤنڈ ورکر کے قبضے سے کئی دستی بم برآمد ہونے کے بعد این آئی اے کی جانب سے درج کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا کہ دستی بموں کی مذکورہ کھیپ مبینہ طور پر سرحد پار سے نذیر حسین نے بھیجی تھی، جس کا مقصد دھماکوں کو انجام دینا تھا۔ نذیر حسین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ علی خان، ناصر، نظیرو اور شاہین سمیت کئی ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔
این آئی اے کی درخواست پر سماعت کے بعد خصوصی جج این آئی اے جموں پریم ساگر نے یکم اکتوبر کو بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ۸۴ کے تحت نذیر حسین کو اشتہاری قرار دیا۔
عدالت کے حکم کے مطابق ملزم کے خلاف پہلے ہی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے تھے، تاہم ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا کیونکہ ملزم اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھا۔
این آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی تعمیلی رپورٹ کے مطابق ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے پاکستان فرار ہو گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے لیے متعدد کوششیں کی گئیں، جن میں اخبارات اور جموں و کشمیر کے سرکاری گزٹ میں نوٹس شائع کرنا بھی شامل تھا، تاہم ملزم نہ تو عدالت کے سامنے پیش ہوا اور نہ ہی اس نے خود کو حکام کے حوالے کیا۔
عدالت نے ان حالات کی بنیاد پر قرار دیا کہ ملزم نے جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کی کوشش کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









