نئی دہلی، 6 اکتوبر (یواین آئی) سپریم کورٹ نے پیر کو واضح کیا کہ اس نے فارم 6 میں ایسی کسی ترمیم کو منظوری نہیں دی ہے، جس کے تحت نئے ووٹروں کے لیے یہ بتانا لازمی قرار دیا گیا ہو کہ ان کا یا ان کے والدین یا دادا دادی کا نام 2003 کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد کی ووٹر فہرست میں درج تھا یا نہیں۔
سپریم کورٹ کی یہ وضاحت الیکشن کمیشن کے اس دعوے کے برخلاف ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اضافی اعلامیے کو اعلیٰ عدالت کی منظوری حاصل تھی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی۔ موہنا کی بنچ نے کہا کہ اس نے فارم 6 میں کسی ترمیم کو منظوری نہیں دی ہے۔ بنچ نے اشارہ دیا کہ متعلقہ ریکارڈ پیش کیے جانے کے بعد وہ دیکھے گی کہ اس تبدیلی کی منظوری کس نے دی تھی۔
بنچ اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن عوامی نمائندگی قانون اور انتخابی رجسٹریشن قوانین، 1960 کے تحت مقررہ قانونی فارم 6 میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔
اعلیٰ عدالت کی یہ وضاحت الیکشن کمیشن کی 26 ستمبر کی پریس ریلیز کے نو دن بعد سامنے آئی ہے۔ کمیشن نے اس میں دعویٰ کیا تھا کہ ایس آئی آر کے لیے فارم 6 کے ساتھ شامل کیے گئے اعلامیے کو سپریم کورٹ نے 27 مئی 2026 کے اپنے فیصلے میں برقرار رکھا تھا۔ کمیشن نے اس فیصلے کا حوالہ دیا تھا، جس میں ایس آئی آر کی آئینی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اس طرح کی نظرثانی کرانے کا اختیار تسلیم کیا گیا تھا۔
مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کرنے والے وکیل شیلیندر منی ترپاٹھی کی جانب سے سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے سماعت کے دوران الزام لگایا کہ ووٹ دینے کا حق سنگین خطرے میں ہے۔ انہوں نے دہلی اور مغربی بنگال میں متاثرہ ووٹروں کی تعداد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کچھ حذف کیے گئے ووٹر ایک انتخاب میں ووٹ دینے کا موقع گنوا چکے ہیں، جبکہ ایک اور انتخاب قریب ہے۔
چیف جسٹس کی جانب سے عرضی میں کی گئی درخواستوں کی زبان کی جانب توجہ دلائے جانے اور یہ مشورہ دیے جانے پر کہ انہیں مختلف انداز میں تیار کیا جا سکتا تھا، گروسوامی نے اپنی درخواستوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھائے گئے مسائل کسی ایک ریاست تک محدود نہیں ہیں۔
انہوں نے بنچ سے کہاکہ ”ہم اس ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔ آج وہ موجود نہیں ہیں۔ میں ان میں سے ہر درخواست پر قائم ہوں۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔”
پی آئی ایل میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے سینئر افسران کے خلاف ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں کے سلسلے میں کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ دو الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کے باوجود یہ فیصلے کیے گئے۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کی عدالتی جانچ یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔







