’یو سی سی جموں و کشمیر میں نافذ نہیں کریں گے‘اگر کوئی قانون یکساں نوعیت کا ہے تو اس پر قومی سطح پر بحث اور غور ہونا چاہیے‘
سری نگر؍۶؍ اکتوبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو ووٹر فہرستوں سے نام حذف کئے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ کی مداخلت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کی مہم جاری رہے گی۔ انہوں نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کے امکان کو بھی مسترد کر دیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ انڈیا اتحاد نے حال ہی میں نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کے دوران اپنے پروگراموں کا ایک کیلنڈر حتمی شکل دیا تھا، جس کے تحت مہم کا آغاز اس کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن تک مارچ سے ہوا۔انہوں نے کہا، ’’آج کا پروگرام الیکشن کمیشن تک مارچ کا تھا اور یہ مہم جاری رہے گی۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ ذرائع ابلاغ نے ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر تشویش کو اجاگر کرنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ اپوزیشن اس مسئلے کو بارہا اٹھاتی رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یہ اچھی بات ہے کہ اب سپریم کورٹ میں بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے عدالت کی جانب سے انتخابی فہرستوں سے نام حذف کیے جانے اور اس کی بنیاد کے بارے میں الیکشن کمیشن اور حکومت ہند سے جواب طلب کیے جانے کا حوالہ دیا۔انہوں نے مزید کہا، ’’اب ہمیں انتظار کرنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ عدالتوں کے ذریعے اس معاملے کو کس حد تک درست کیا جا سکتا ہے۔‘‘
یکساں سول کوڈ کے بارے میں عمر عبداللہ نے واضح طور پر کہا کہ جموں و کشمیر میں اسے نافذ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مختلف ریاستوں کے ذریعے اس قانون کو نافذ کرنے کے بی جے پی کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا، ’’ہم یہاں یکساں سول کوڈ نافذ نہیں کریں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ کئی دیگر ریاستی حکومتوں نے بھی اس کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اگر کوئی قانون یکساں نوعیت کا ہے تو اس پر قومی سطح پر بحث اور غور ہونا چاہیے، نہ کہ مختلف ریاستیں الگ الگ اسے نافذ کریں۔انہوں نے کہا، ’’اگر ان میں ہمت ہے تو قانون پارلیمنٹ میں لائیں اور وہاں اس پر بحث کریں۔ دیکھتے ہیں کہ وہ منظور ہوتا ہے یا نہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے پاس پارلیمنٹ میں ایسے قانون کو منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے اور الزام لگایا کہ پارٹی ان ریاستوں کے ذریعے مرحلہ وار اس قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں وہ اقتدار میں ہے۔انہوں نے کہا، ’’اسی لیے بی جے پی اسے بتدریج، ریاست بہ ریاست نافذ کر رہی ہے، جو غلط ہے۔‘‘
عمرعبداللہ نے مزید کہا، ’’اگر ہم جمہوریت کو اس کے حقیقی مفہوم میں دیکھیں تو اس معاملے پر مرکز میں بحث ہونی چاہیے، نہ کہ مختلف ریاستوں میں الگ الگ۔‘‘
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وہ اپنے ملک سے بے دخل ہونے کے بعد یہاں پناہ لینے آئے تھے۔انہوں نے کہا، ’’جو لوگ بنگلہ دیش سے بغیر اجازت آئے ہیں، وہ الگ معاملہ ہے۔ لیکن روہنگیا، جنہیں بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایک الگ معاملہ ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ان پناہ گزینوں کو اس وقت تک یہاں رہنے کی اجازت دی گئی تھی جب تک ان کے ملک کے حالات بہتر نہیں ہو جاتے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’جب انہیں اپنے ہی ملک سے نکال دیا گیا تھا تو ہم نے انہیں یہاں پناہ اور رہنے کے لیے کچھ جگہ دی تھی، یہاں تک کہ ان کے ملک کے حالات بہتر ہو جائیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اب اچانک ان کے خلاف کارروائی کرنا مجھے عجیب لگتا ہے۔‘‘
تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ معاملہ ان کی حکومت کے اختیار سے باہر ہے، کیونکہ کارروائی حکومت ہند کی جانب سے پولیس کی مدد سے کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’پولیس بھی ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔ بہتر ہوگا کہ یہ سوال ان لوگوں سے پوچھے جائیں جو پولیس کو احکامات دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔‘‘
موبائل رابطے اور زیرِ زمین بنیادی ڈھانچے کی نالیوں سے متعلق انتظامیہ کے حالیہ فیصلوں کے بارے میں عبداللہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد ان علاقوں میں موبائل سہولت بہتر بنانا ہے جہاں اب بھی سگنل دستیاب نہیں ہیں اور سڑکوں کی بار بار کھدائی کو روکنا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ایک ایسے وقت میں جب ہم مصنوعی ذہانت کی بات کر رہے ہیں، جموں و کشمیر میں اب بھی ایسے علاقے ہیں جہاں موبائل فون کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ان علاقوں میں بی ایس این ایل کو زمین الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں موبائل سگنل دستیاب نہیں ہیں، تاکہ وہاں موبائل ٹاور نصب کیے جا سکیں۔
زیرِ زمین نالیوں کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ مختلف محکمے پانی کی پائپ لائنیں، بجلی کا بنیادی ڈھانچہ اور مواصلاتی تاریں بچھانے کے لیے بار بار سڑکیں کھودتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ایک کے بعد دوسرا محکمہ سڑکیں کھودتا رہتا ہے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر کے دوران ہی زیرِ زمین نالیاں نصب کر دی جائیں تو مختلف محکمے اسی بنیادی ڈھانچے کو استعمال کر سکتے ہیں اور بار بار سڑکیں کھودنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے کہا، ’’یہی اس فیصلے کا مقصد تھا۔ اب اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔‘‘
اپنی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے قریب پہنچنے پر کارکردگی سے متعلق سوال کے جواب میں عبداللہ نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ابھی وقت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پہلے دو سال مکمل ہونے دیں۔ اس کے بعد ہم آپ کو بتائیں گے کہ ہم نے کیا کیا ہے اور کیا نہیں کیا۔‘‘
عمرعبداللہ نے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی جانب سے جواہر لال نہرو کے بارے میں مبینہ طور پر دیے گئے بیان پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ بیان نہیں سنا اور نہ ہی انہیں معلوم ہے کہ یہ کس تناظر میں دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’میں اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا کہ کیا کہا گیا یا کس تناظر میں کہا گیا، کیونکہ میں یہ بات پہلی مرتبہ آپ ہی سے سن رہا ہوں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









