سری نگر؍۶ ؍اکتوبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں جموں و کشمیر حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ایسے علاقوں میں موبائل ٹاوروں کی تنصیب کے لیے زمین فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے جہاں موبائل اور مواصلاتی سہولیات ناکافی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد دور دراز اور سرحدی علاقوں میں تیز رفتار مواصلاتی رابطے کو مضبوط بنانا ہے۔
اس منصوبے کے تحت یونیورسل سروس اوبلی گیشن فنڈ (یو ایس او ایف) کے تحت اُڑی، ٹنگمرگ، کرناہ، کالاکوٹ، کرالپورہ، بسنت گڑھ، کھور، لٹی مروتی، بانہال، پوگل پریستان، رامسو اور قلعہ درہال کے ایسے علاقوں میں بی ایس این ایل کے موبائل ٹاور نصب کرنے کے لیے زمین کی منظوری دی گئی ہے جہاں مواصلاتی سہولیات ناکافی ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام سے دور دراز اور سرحدی علاقوں میں رہنے والی آبادی کو قابلِ اعتماد مواصلاتی سہولت فراہم کرنے میں مدد ملے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ جغرافیائی محلِ وقوع ڈیجیٹل خدمات اور مواقع تک رسائی میں رکاوٹ نہ بنے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ یو ایس او ایف کے تحت بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ فور جی نیٹ ورک کی کوریج میں توسیع کی جا سکے اور ان علاقوں میں ٹیلی مواصلاتی سہولت کو مکمل طور پر وسعت دی جا سکے جہاں اب تک خدمات ناکافی ہیں۔
حکومت کے مطابق اس اقدام سے آن لائن تعلیم، ای گورننس خدمات اور ہنگامی مواصلات تک رسائی بہتر ہونے کے علاوہ دیہی، دور دراز اور سرحدی علاقوں کے باشندوں کو ڈیجیٹل سہولیات سے جوڑنے میں بھی مدد ملے گی۔
ٹیلی مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کے لیے مخصوص زمین فراہم کرنے کا مقصد مشکل اور جغرافیائی اعتبار سے دشوار مقامات پر موبائل ٹاوروں کی تنصیب کا عمل تیز کرنا بھی ہے، جس سے جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل تفریق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
حکومت نے کہا کہ یہ اقدام دور دراز علاقوں میں رہنے والی آبادی تک ڈیجیٹل رابطے کے فوائد پہنچانے اور جموں و کشمیر میں مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










