’ خواتین کی قیادت میں ہونے والی انجینئرنگ اور تکنیکی اختراعات کو محض بحث و مباحثے تک محدود نہیں رہنا چاہیے ‘
سرینگر؍۵؍اکتوبر
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے زراعت اور باغبانی کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجوں، جن میں موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی قلت اور پائیداری شامل ہیں، سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہانت کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا ہے۔
شالیمار کنونشن سینٹر، شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (سکوست کشمیر) میں ’’اے آئی اینڈ روبوٹکس فار جن زی فارمنگ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہانت کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
ایل جی نے کہا کہ ایسی اختراعات کی ضرورت ہے جو کسانوں اور مجموعی طور پر معاشرے کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں۔
سنہا نے کہا کہ زراعت کو درپیش چیلنجوں سے ماضی کے روایتی ذرائع اور طریقوں کے ذریعے نہیں نمٹا جا سکتا، اس لیے کم وسائل استعمال کرتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’محدود وسائل کے ساتھ ہم زیادہ پیداوار حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں یہ تلاش کرنا ہوگا کہ زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کس طرح محفوظ رکھا جائے اور زراعت و باغبانی کو پائیدار کیسے بنایا جائے۔‘‘
سنہا نے امید ظاہر کی کہ یہ سمپوزیم مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے زراعت کے شعبے کے لیے مؤثر حل تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر زراعت کے مستقبل پر غور و خوض کے لیے ایک موزوں مقام ہے، کیونکہ اس خطے کی زرعی روایات نہایت قدیم اور مضبوط ہیں، جبکہ یہاں کے کسان نسلوں سے مختلف چیلنجوں کا سامنا کرتے آئے ہیں۔
سنہا نے زراعت میں خواتین کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی قیادت میں ہونے والی انجینئرنگ اور تکنیکی اختراعات کو محض بحث و مباحثے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی حل کی شکل اختیار کرنی چاہیے۔
افرادی قوت سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ دیہی خواتین کی ایک بڑی تعداد زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے، تاہم ان میں سے بہت سی خواتین اب بھی مناسب معاوضے کے بغیر زرعی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ اسمارٹ فارمنگ، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں ہونے والی اختراعات جامع نوعیت کی ہونی چاہئیں اور ان میں چھوٹے اور معمولی درجے کے کسانوں کے ساتھ ساتھ زراعت سے وابستہ خواتین کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
سنہا نے کہا کہ ’’خواتین کی قیادت میں انجینئرنگ کی اختراعات‘‘ اور ’’اے آئی و روبوٹکس برائے جن زی فارمنگ‘‘ جیسے موضوعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارت غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر عالمی زراعت میں قائدانہ کردار کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر اپنی بھرپور زرعی روایت اور دشوار گزار جغرافیائی حالات کے باعث زراعت کے مستقبل سے متعلق غور و خوض کے لیے ایک موزوں مقام ہے۔
انڈین سوسائٹی آف ایگریکلچرل انجینئرز کے۱۹۶۰ میں قیام کے بعد سے زرعی انجینئرنگ کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سائنس دانوں اور انجینئروں نے مشینی کاری اور ایسی اختراعات کے ذریعے سبز انقلاب میں اہم کردار ادا کیا جن سے فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لانے میں مدد ملی۔
ایل جی نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ ماضی کی کامیابیوں سے تحریک حاصل کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی قلت اور پائیدار زراعت جیسے موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے حل تلاش کرے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زراعت میں خواتین کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دیہی خواتین کی افرادی قوت کا تقریباً۶۴ سے۷۶ فیصد حصہ زرعی اور متعلقہ سرگرمیوں سے وابستہ ہے، تاہم ان میں سے بہت سی خواتین بغیر معاوضے اور زمین کی ملکیت کے بغیر کام کرتی ہیں۔
سنہا نے خواتین اختراع کاروں کو بااختیار بنانے اور زرعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی قیادت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے اداروں اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ خواتین کی قیادت میں قائم ہونے والے نئے کاروباری منصوبوں کی معاونت کی جائے اور ایسی تجربہ گاہیں، وظائف اور تربیتی و معاون مراکز قائم کیے جائیں جہاں دیہی علاقوں کی نوجوان خواتین انجینئرز اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھا سکیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کی قیادت میں شروع کیے جانے والے نئے منصوبوں کو بھی اسی اعتماد کے ساتھ مالی معاونت اور ضروری سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں جس طرح دیگر نئے کاروباری منصوبوں کو دی جاتی ہیں۔
ایل جی نے کہا کہ انجینئرنگ کالجوں اور زرعی یونیورسٹیوں کو خواتین کو ٹیکنالوجی کے میدان میں قائدانہ مقام تک پہنچانے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق کشتواڑ یا کپواڑہ کے کسی گاؤں سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون انجینئر یا سائنس دان کے لیے ایسی سہولیات موجود ہونی چاہئیں جہاں اس کا خیال ایک قابلِ اعتماد عمل کے ذریعے منڈی میں پیش کیے جانے والے تیار شدہ منصوبے کی شکل اختیار کرسکے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









