سرینگر؍۵؍اکتوبر
نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے واضح کیا ہے کہ پورے ملک میں میڈیکل انٹرنز کے لیے ایک ہی مقررہ ماہانہ وظیفہ نافذ کرنا ممکن نہیں، تاہم ریاستیں اپنے دائرۂ اختیار میں تمام سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں کے لیے یکساں وظیفہ مقرر کرنے پر غور کرسکتی ہیں۔
این ایم سی کے ایک سینئر عہدیدار نے ’دی پرنٹ‘ کو بتایا کہ ملک بھر میں طبی انٹرنز کے لیے ایک ہی رقم مقرر نہیں کی جاسکتی، کیونکہ مختلف ریاستوں کی مالی گنجائش ایک جیسی نہیں ہے۔ ان کے مطابق وظیفے کی رقم کا تعین متعلقہ ریاستوں کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور اس حوالے سے ریاستی پالیسی عدالتوں کے مختلف فیصلوں اور متعلقہ قوانین کی تشریح سے مشروط ہوگی۔
یہ معاملہ جموں و کشمیر کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں رواں سال اگست میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز نے ماہانہ وظیفے میں اضافے کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی تھی۔
جموں و کشمیر میں انٹرنز کو اس وقت۱۲ہزار۳۰۰ روپے ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا تھا اور انہوں نے اسے بڑھا کر۳۰ ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انٹرنز کا کہنا تھا کہ موجودہ رقم کئی برس سے تبدیل نہیں ہوئی، جبکہ ان کی ذمہ داریوں، کام کے اوقات اور مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انٹرنز کی ہڑتال۳۱؍ اگست کو شروع ہوئی تھی اور جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری طبی اداروں میں احتجاج کیا گیا۔ بعد ازاں صحت و طبی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو کے ساتھ بات چیت کے بعد حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ وظیفے میں اضافے کے معاملے کو ایک ماہ کے اندر حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس یقین دہانی کے بعد انٹرنز نے اپنی ہڑتال عارضی طور پر ختم کردی تھی۔
بعد میں۱۵ ستمبر کو جموں و کشمیر کے محکمہ خزانہ نے صحت و طبی تعلیم محکمہ سے انٹرنز کے ماہانہ وظیفے کو۱۲ہزار۳۰۰ روپے سے بڑھا کر۳۰ ہزار روپے کرنے کے مطالبے کا جائزہ لینے اور ضابطے کے مطابق مزید کارروائی کرنے کو کہا۔
این ایم سی عہدیدار کے مطابق ملک میں ’’ایک وظیفہ، ایک معیار‘‘ کا تصور عملی طور پر نافذ کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم مالی وسائل رکھنے والی چھوٹی ریاستوں کے لیے دوسرے علاقوں کے برابر زیادہ وظیفہ ادا کرنا مشکل ہوسکتا ہے، اس لیے رقم کا تعین متعلقہ ریاست کو ہی کرنا ہوگا۔
تاہم این ایم سی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ میڈیکل انٹرنز کو دیے جانے والے وظیفوں میں نمایاں تفاوت موجود ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی انٹرن کو وظیفے سے محروم نہ رکھا جائے، جس میں بیرون ملک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے وہ غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس بھی شامل ہیں جو بھارت میں لازمی انٹرن شپ مکمل کرتے ہیں۔
یہ وضاحت وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے نومبر۲۰۲۵میں این ایم سی کو بھیجے گئے خط اور دسمبر میں بھیجے گئے یاددہانی خط کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزارت نے انٹرنز کے وظیفے میں یکسانیت اور بعض غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کو وظیفہ نہ ملنے کی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے کمیشن سے کہا تھا۔ سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں کے درمیان وظیفے کی رقم میں بڑے فرق کا معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا۔
اس وقت این ایم سی کے لازمی گردشی طبی انٹرن شپ ضوابط۲۰۲۱ کے تحت میڈیکل انٹرنز کو ایسا وظیفہ ادا کیا جانا چاہیے جو متعلقہ ادارے، یونیورسٹی یا ریاست کی مجاز اتھارٹی کی جانب سے مقرر کیا گیا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ این ایم سی نے ملک بھر کے ہر میڈیکل انٹرن کے لیے ایک مخصوص رقم مقرر نہیں کر رکھی۔
تاہم این ایم سی عہدیدار نے واضح کیا کہ کمیشن کی جانب سے یہ ہدایت موجود ہے کہ کسی ادارے میں غیر ملکی میڈیکل گریجویٹ اور بھارتی میڈیکل گریجویٹ کے درمیان وظیفے کے معاملے میں کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔
میڈیکل انٹرنز کے علاوہ پوسٹ گریجویٹ سطح پر جونیئر ریزیڈنٹس کے وظیفے کا معاملہ بھی این ایم سی کے ضوابط میں شامل ہے۔۲۰۲۳ کے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن ضوابط کے تحت نجی میڈیکل کالج میں کام کرنے والے جونیئر ریزیڈنٹ کو اسی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سرکاری میڈیکل ادارے کے جونیئر ریزیڈنٹ کے مساوی وظیفہ دیے جانے کی شق شامل کی گئی تھی۔
فروری۲۰۲۶میں این ایم سی کے انڈر گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن بورڈ نے کہا تھا کہ۲۰۲۱کے ضوابط میں کسی بھی ترمیم کے لیے قانونی طریقۂ کار اور متعلقہ حکام سے مشاورت ضروری ہوگی۔ اس دوران مختلف ریاستوں میں میڈیکل انٹرنز کم اور غیر یکساں وظیفے کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں انٹرنز نے۱۴ہزار۳۳۷ روپے سے بڑھا کر۳۰ ہزار روپے ماہانہ کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد حکومت نے وظیفہ بڑھا کر۲۱ہزار۵۰۰ روپے کردیا۔ اتر پردیش میں سرکاری میڈیکل کالجوں کے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا ماہانہ وظیفہ۱۲ ہزار سے بڑھا کر۲۵ ہزار روپے، بہار میں۲۰ ہزار سے بڑھا کر۲۷ہزار روپے اور اتراکھنڈ میں۲۵ہزار روپے کردیا گیا۔
این ایم سی کے۲۰۲۵کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے۵۵۵ میڈیکل کالجوں میں سے۶۰ نے انٹرنز کو وظیفہ ادا نہیں کیا تھا، جبکہ بعض دیگر اداروں میں ماہانہ ادائیگی۵ہزار روپے سے بھی کم رپورٹ ہوئی۔
وظیفے کی عدم ادائیگی کا معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی زیر غور رہا ہے۔ اکتوبر۲۰۲۵میں عدالت عظمیٰ نے ان کالجوں کے خلاف کارروائی میں تاخیر پر این ایم سی سے سوال کیا تھا جنہوں نے وظیفے سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔
غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے معاملے میں بھی فروری۲۰۲۶میں سپریم کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انٹرن شپ مکمل کرنے والے ایک گروپ کو زیر التوا وظیفہ ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ یکساں حالات رکھنے والے غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے ساتھ ان افراد سے مختلف سلوک نہیں کیا جاسکتا جنہیں وظیفہ ادا کیا گیا ہے۔
این ایم سی کے سینئر عہدیدار نے مزید بتایا کہ حال ہی میں انڈر گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن بورڈ نے وظیفے سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے پر آٹھ اداروں پر مالی جرمانہ عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن ان اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا جو وظیفے سے متعلق نافذ ضوابط پر عمل نہیں کرتے۔
عہدیدار کے مطابق مستقبل میں نگرانی مزید سخت کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کارروائی صرف مالی جرمانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ قواعد کی مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ادارے کی منظوری یا تسلیم شدگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
جموں و کشمیر کے تناظر میں این ایم سی کی یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ یہاں انٹرنز کے وظیفے میں اضافے کا فیصلہ بنیادی طور پر مقامی انتظامی اور مالی فیصلے سے جڑا ہوا ہے۔ اگست میں احتجاج کے بعد حکومت کی جانب سے معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی اور ستمبر میں محکمہ خزانہ کی جانب سے اس مطالبے کا جائزہ لینے کی ہدایت کے باوجود اصل رقم میں اضافے کا حتمی فیصلہ ہی اب سب سے اہم مرحلہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










