سرینگر؍۵؍ اکتوبر
جموں کشمیر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن(جے کے ایس آر ٹی سی ) کی جانب سے بی ایس۔۶بسوں کے لیے ڈیزل ایگزاسٹ فلوئڈ(ڈی ای ایف) کی خریداری کے عمل کی جانچ کرنے والی کمیٹی نے فیصلہ سازی کے عمل میں متعدد اہم دستاویزی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کارپوریشن نے۲۱ مئی۲۰۲۶ کو سرکاری آن لائن خریداری بازار کے ذریعے ڈی ای ایف کی خریداری کے لیے بولی جاری کی، جسے بعد ازاں مبینہ تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر منسوخ کردیا گیا۔ اس کے صرف چند روز بعد۲۶ مئی کو جموں و کشمیر کے برقی خریداری نظام کے ذریعے اسی نوعیت کی نئی بولی جاری کی گئی۔
۵ ؍اگست کو تشکیل دی گئی جانچ کمیٹی نے کہا کہ پہلی بولی کی منسوخی کی تکنیکی بنیاد، اس کی جانچ اور منظوری سے متعلق مکمل اصل ریکارڈ اسے فراہم نہیں کیا گیا۔ اسی طرح بولی سے قبل منعقدہ اجلاس کی تفصیلی کارروائی اور شریک اداروں کی تحریری آرا بھی دستیاب نہیں تھیں۔
کمیٹی کے مطابق بولی منسوخ کرکے متبادل خریداری نظام اختیار کرنے سے قبل مالی مشیر کی مخصوص رائے بھی ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔ مزید برآں، متعلقہ سرکاری آن لائن خریداری ادارے سے مبینہ تکنیکی دشواری کے بارے میں کوئی واضح تصدیق یا عدم دستیابی کا تصدیقی سرٹیفکیٹ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں نئی بولی میں ریورس آکشن شامل نہ کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق فائل پر اس طریقہ کار کو اختیار نہ کرنے کی کوئی مخصوص وجہ یا منظوری موجود نہیں ملی، جبکہ بڑی مقدار میں خریداری کے معاملے میں قیمتوں کے مؤثر تعین کے لیے اس پہلو کا جائزہ ضروری تھا۔
کمیٹی نے قرار دیا کہ پہلی بولی منسوخ کرنے سے لے کر نئی بولی جاری کرنے تک فیصلہ سازی کا مکمل دستاویزی سلسلہ دستیاب نہیں ہے، جس کے باعث اس عمل کی ضابطے کے مطابق حیثیت اور مالی جواز کی مکمل تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ بولی سے قبل اجلاس کی کارروائی، شریک اداروں کی نمائندگی، تکنیکی خط و کتابت، منظوریوں، مالی مشوروں، خریداری کی کارروائی، تقابلی نرخوں اور بعد کی فراہمی سے متعلق تمام اصل دستاویزات محفوظ کرکے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی افسر یا اہلکار کی غفلت، فرائض سے انحراف یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔
دریں اثنا، معاملے سے متعلق شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمیٹی نے بولی منسوخ کرنے اور مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کے تبادلے کی سفارش کی تھی، تاہم ان سفارشات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔ شکایت میں کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر پر وزارتی ہدایات پر عمل درآمد کی مزاحمت کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
کمیٹی کی رپورٹ میں اصل ریکارڈ کی عدم دستیابی کو فیصلہ سازی کے عمل کی مکمل جانچ میں ایک اہم رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی خامیاں کمیٹی کی اس صلاحیت کو محدود کرتی ہیں کہ وہ GeM ٹینڈر کی منسوخی اور نئے ٹینڈر کی طرف منتقلی کے فیصلے کی مکمل طریقہ کار اور مالی جواز کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرسکے۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)










