سرینگر؍۵؍؍ اکتوبر
جموں و کشمیر کے حکام نے پیر کو بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم۱۵۰ بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔
سری نگر پولیس کے مطابق، انہیں ہندوستانی فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے باگڈوگرا لے جایا گیا، جہاں انہیں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کے حوالے کر دیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ مزید۱۵۰ بنگلہ دیشی شہریوں کے ایک اور گروپ کو۷؍ اکتوبر کو ملک بدر کیا جائے گا۔
پولیس نے مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے لیے گزشتہ چند روز کے دوران خصوصی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً۵۰۰؍افراد کو حراست میں لیا ہے، جن میں بیشتر کا تعلق بنگلہ دیش سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق زیر حراست افراد کو سری نگر کے مضافات میں قائم ایک مرکز منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ زیر حراست افراد کے ایک گروپ کو بھارتی فضائیہ کے طیارے کے ذریعے مغربی بنگال کے باگڈوگرا ہوائی اڈے منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کیا جائے گا، جس کے بعد انہیں۷؍ اکتوبر کو بنگلہ دیش واپس بھیجے جانے کا امکان ہے۔
ایک پولیس افسر کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد گزشتہ کئی برس سے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں مقیم تھے اور معمولی نوعیت کے کام، جن میں کچرا جمع کرنا بھی شامل ہے، کرتے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے بعض افراد کا تعلق میانمار سے تعلق رکھنے والی روہنگیا برادری سے بھی ہے۔ پولیس کے مطابق پہلے گروپ کو مغربی بنگال بھیجا گیا ہے، جبکہ دیگر زیر حراست افراد کو بھی آئندہ دنوں میں مرحلہ وار وہاں منتقل کیا جائے گا تاکہ انہیں ملک بدر کرنے کا عمل آگے بڑھایا جاسکے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مرکز کی جانب سے جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے حال ہی میں جموں و کشمیر کا اپنا پہلا میدانی دورہ کیا تھا۔ وزارت داخلہ نے یہ کمیٹی رواں سال مئی میں تشکیل دی تھی۔
کمیٹی کے دورۂ جموں و کشمیر کے دوران اسے فراہم کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں۷ہزار۶۵۶ روہنگیا اور۵۰۴ بنگلہ دیشی شہری موجود ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جموں خطے کے۱۰؍ اضلاع میں۶۷۳۷ روہنگیا اور۴۶ بنگلہ دیشی شہری جبکہ وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں۹۱۹ روہنگیا اور۴۵۸ بنگلہ دیشی شہریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ان غیر ملکی شہریوں سے متعلق مجموعی طور پر۱۱۷ مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں۱۰۱ جموں خطے اور۱۶ کشمیر میں درج ہوئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق موجودہ کارروائی کے تحت زیر حراست افراد کو مرحلہ وار جموں و کشمیر سے باہر منتقل کیا جائے گا اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ان کی شہریت کی تصدیق اور ملک بدری کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔
تاہم، حراست میں لیے گئے تمام افراد کو ’’غیر قانونی تارکین وطن‘‘ قرار دینے کا حتمی تعین ان کی شناخت، شہریت اور قانونی حیثیت کی متعلقہ حکام کی جانب سے تصدیق کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










