اتوار, اکتوبر 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home قومی خبریں

این آئی اے کیس میں پانچ سال سے زائد عرصے سے زیرِ حراست محمد شہزاد کمال کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-03
in قومی خبریں
A A
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’فضائیہ کو سالانہ۳۶ سے۴۰ جنگی طیاروں کی ضرورت‘

کیپٹن اسمت مچھار نے اہل وطن کا سر فخر سے بلند کیا: مودی

نئی دہلی، 2اکتوبر(یواین آئی) دہلی ہائی کورٹ نے این آئی اے کیس کے ملزم محمد شہزاد کمال کو پانچ سال سے زائد عرصے تک حراست میں رہنے اور مقدمے کی آئندہ قریبی مدت میں تکمیل کے امکانات نہ ہونے کے پیشِ نظر ضمانت منظور کرلی ہے۔ یہ ضمانت ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے پیروی کے بعد ملی ہے۔ یہ اطلاع پریس کے لیے جاری ایک ریلیز میں دی گئی۔
جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس ارون بھاردواج پر مشتمل دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے یکم اکتوبر 2026 کو محمد شہزاد کمال بنام این آئی اے کے درمیان مقدمے میں فیصلہ سنایا۔ عدالت کے سامنے اپیل خصوصی این آئی اے عدالت کے29 مئی 2024 کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جس کے ذریعے شہزاد کمال کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
محمد شہزاد کمال کو 13 اگست 2021 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے ہی وہ تہاڑ جیل میں عدالتی حراست میں تھے۔ استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ حرکتُ الحرب الاسلام سے متعلق ہے، جسے استغاثہ نے داعش (آئی ایس آئی ایس) سے وابستہ قرار دیا ہے۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ ایم. شہزاد کمال مبینہ سازش میں شامل تھے اور تنظیم کی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی تھی۔ ان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 121 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یواے پی اے) 1967 کی دفعات 17، 18، 39 اور 40 کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔
دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے اس امر کو اہم قرار دیا کہ ملزم پانچ سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہے جبکہ مقدمے کی سماعت مستقبل قریب میں مکمل ہونے کے امکانات نظر نہیں آتے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسی مقدمے کے بعض دیگر ملزمان کو پہلے ہی ضمانت دی جاچکی ہے۔
عدالت نےمزید مشاہدہ کیا کہ موجودہ مرحلے پر ایسا کوئی مثبت ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ مبینہ طور پر قابلِ اعتراض چیٹس خود اپیل کنندہ کی جانب سے بھیجی گئی تھیں یا ان سے مخاطب تھیں۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کے مرحلے پر کیے گئے یہ مشاہدات مقدمے کے حتمی میرٹ پر فیصلہ تصور نہیں کیے جائیں گے۔
ہائی کورٹ نے طویل عرصے تک زیرِ سماعت مقدمے میں قبل از سماعت حراست، آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل حقوق اور یواے پی اے کی دفعہ 43-D(5) کے قانونی تقاضوں کوبھی مدنظر رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تیز رفتار سماعت کا آئینی حق کسی ملزم کی مسلسل حراست کا جائزہ لیتے وقت متعلقہ رہتا ہے اور ہر ملزم کے معاملے کا اس کے مخصوص حالات کی بنیاد پر الگ سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
عدالت نے خصوصی این آئی اے عدالت کے 29 مئی 2024 کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد شہزاد کمال کو ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت دی، تاہم اس کے لیے متعدد شرائط عائد کی گئی ہیں۔ ان میں 50 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانا، پاسپورٹ عدالت میں جمع کرانا، بھارت سے باہر جانے پر پابندی، ہاپوڑ ضلع سے باہر جانے پر پابندی، ٹرائل کورٹ میں باقاعدگی سے حاضری، گواہوں اور شریک ملزمان سے رابطہ نہ کرنا اور متعلقہ این آئی اے برانچ میں مقررہ وقفوں سے رپورٹ کرنا شامل ہے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ محمد شہزاد کمال مقدمے کی میرٹ، شواہد، گواہوں یا زیرِ سماعت کارروائی سے متعلق عوامی سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کریں گے۔ انہیں شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا عدالتی کارروائی میں کسی بھی طرح کی مداخلت سے بھی روکا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں ضمانت منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کی جاسکتی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا کہ ضمانت کے مرحلے پر کیے گئے عدالتی مشاہدات صرف ضمانت کی درخواست کے فیصلے تک محدود ہیں اور انہیں مقدمے کے حتمی میرٹ پر رائے نہیں سمجھا جائے گا۔ چنانچہ محمد شہزاد کمال کے خلاف اصل مقدمے کی سماعت خصوصی این آئی اے عدالت میں جاری رہے گی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اپوزیشن جماعتوں کا ڈرامہ عوام دیکھ رہی ہے، مناسب جواب دے گی: ملہوترا

Next Post

شکر اور چاول نرم، دالوں اور خوردنی تیلوں میں اتار چڑھاؤ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بھارتی فضائیہ کے درست حملے آپریشن سندور میں سنگ میل ثابت ہوئے :ایئر فورس چیف
اہم ترین

’فضائیہ کو سالانہ۳۶ سے۴۰ جنگی طیاروں کی ضرورت‘

2026-10-04
’آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی شہادت کو سب سے بہترین خراجِ عقیدت‘
قومی خبریں

کیپٹن اسمت مچھار نے اہل وطن کا سر فخر سے بلند کیا: مودی

2026-10-03
ایپیڈا کے تعاون سے پورنیہ سے یونان بھیجا گیا مکھانہ، بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھا بہار کا دبدبہ
قومی خبریں

ایپیڈا کے تعاون سے پورنیہ سے یونان بھیجا گیا مکھانہ، بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھا بہار کا دبدبہ

2026-10-03
سال 2026 میں بگڑا دہلی کی ہوا کا معیار، سی اے کیو ایم پر اعداد و شمار چھپانے کا الزام: رپورٹ
قومی خبریں

سال 2026 میں بگڑا دہلی کی ہوا کا معیار، سی اے کیو ایم پر اعداد و شمار چھپانے کا الزام: رپورٹ

2026-10-03
شکر اور چاول نرم، دالوں اور خوردنی تیلوں میں اتار چڑھاؤ
قومی خبریں

شکر اور چاول نرم، دالوں اور خوردنی تیلوں میں اتار چڑھاؤ

2026-10-03
قومی خبریں

اپوزیشن جماعتوں کا ڈرامہ عوام دیکھ رہی ہے، مناسب جواب دے گی: ملہوترا

2026-10-03
قومی خبریں

گاندھی-شاستری جینتی پر دہلی کانگریس نے خراجِ عقیدت پیش کیا، تاجدار بابر کو بھی یاد کیا

2026-10-03
قومی خبریں

مودی حکومت کمر توڑ مہنگائی سے عوام کو کب نجات دلائے گی: کانگریس

2026-10-03
Next Post
شکر اور چاول نرم، دالوں اور خوردنی تیلوں میں اتار چڑھاؤ

شکر اور چاول نرم، دالوں اور خوردنی تیلوں میں اتار چڑھاؤ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.